امام المتکلمین ابو منصور ماتریدی حنفی

 

امام ماتریدی رحمہ اللہ  کی زندگی کے عمومی نقوش


امام ماتریدیؒ کے زمانے میں ماوراء النہر کے علاقے میں جو گمراہ فرقے تھوڑی یا زیادہ تعداد میں موجود تھے، ان میں سے تین قابل ذکر ہیں: معتزلہ، شیعہ اور کرامیہ، جب کہ غیر مسلموں میں سے فلاسفہ کی کتب کے عربی تراجم ہونے کی وجہ سے ان کا نام بھی عالم اسلام میں کافی گونج رہاتھا۔ چنانچہ امام ماتریدیؒ نے ان سب کے خلاف اہلِ سنت کی ترجمانی اور دفاع کا محاذ سنبھالا اور اسی لیے ’’امام الہدیٰ‘‘ ان کا لقب قرار پایا۔ اسی لیے ’’تفسیرِ ماتریدی‘‘ کا مطالعہ کرنے والا جابجا اس حقیقت کا مشاہدہ کرتا ہے کہ امام ماتریدیؒ بڑی وضاحت و صراحت اور قوت کے ساتھ ان گمراہ فرقوں کی تردید کرتے ہیں اور شاید ہی کوئی ایسا مقام ہو جہاں ان فرقوں کی تردید کی نوبت آئے اور امام ماتریدیؒ خاموشی سے گزر جائیں۔ امام ماتریدیؒ کی تفسیر گویا اس حوالے سے منفرد حیثیت رکھتی ہے کہ آپ نے آیاتِ قرآنیہ کی تفسیر و تاویل میں اہلِ سنت کے نظریے کو بھی بیان کیا ہے اور ساتھ ساتھ گمراہ فرقوں کے نظریات اور ان کی تردید کو بھی سامنے رکھا ہے، اس طرح یہ عظیم کتاب ’’تقابلی مطالعے‘‘ کا ایک بہترین اور شاہکار نمونہ قرار پاتی ہے اورجو لوگ سمجھتے ہیں کہ تقابلی مطالعے کی روایت عصرِ حاضر میں پڑی ہے اور متقدمین اہلِ علم اس ضروری پہلو سے ناواقف تھے، ان کی غلط فہمی بھی اس کے بعد دور ہوجانی چاہیے۔ 


تالیفات


۱:- تأویلات أہل السنۃ


جو ’’تفسیرِ ماتریدی‘‘ کے نام سے بھی مشہور ہے۔ اس تفسیر میں امام ماتریدیؒ کے طرزِ تفسیر کو درج ذیل نکات میں دیکھاجاسکتا ہے:

تفسیر القرآن بالقرآن:چنانچہ امام ماتریدیؒ کے ہاں اس کا خاص اہتمام نظر آتا ہے کہ آپ جہاں ایک آیت کی تفسیر دوسری آیت میں دیکھتے ہیں یا دونوں کے مقاصد کو یکجا دیکھتے ہیں تو اس کی طرف ضرور رہنمائی فرمادیتے ہیں۔

تفسیر القرآن بالسنۃ النبویۃ: امام ماتریدیؒ کی زندگی میں اگرچہ علم حدیث سے بہت زیادہ لگاؤ کا سراغ نہیں ملتا، کیوں کہ آپ کے حالاتِ زندگی بہت ہی کم دستیاب ہیں، مگر تفسیر دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے پاس احادیث و آثار کا بھی کافی ذخیرہ موجود تھا، چنانچہ راقم السطور نے ملاحظہ کیا تو کم وبیش ہرصفحے دو صفحے بعد متعدد احادیث و آثار مل جاتے ہیں۔ 

تفسیر القرآن باللغۃ العربیۃ: متعدد مقامات پر نہایت اہتمام کے ساتھ عتبی اور عوسج کے حوالے سے لغات کا بھی ذکرکرتے ہیں اور کئی مقامات پر اس مقصد کے لیے باقاعدہ عربی اشعار بھی بطور حوالہ پیش کرتے ہیں۔ 

فقہی اختلافات کا بیان: اگرچہ امام ماتریدیؒ نے اس موضوع کا زیادہ اہتمام نہیں کیا، مگر پھر بھی جہاں ضرورت محسوس ہوئی کہ فقہ حنفی کا استدلال واضح کیاجائے، وہاں فقہ حنفی کے استدلال اور اس کی ترجیح کو بڑی خوبی سے بیان کیا ہے اور کئی مقامات پر بعض ایسے فقہی استدلالات پیش کیے ہیں جو دیگر متداول کتب میں کم ہی نظر آتے ہیں۔ 

گمراہ فرقوں کی تردید: یہ تو امام ماتریدیؒ کا خاص موضوع ہے، چنانچہ کسی بھی آیت سے اگر معتزلہ نے، یا کرامیہ نے، یا باطنیہ نے، یا فلاسفہ نے، یا روافض نے کوئی استدلال کیا ہے تو امام ماتریدیؒ ان کے استدلال کے غلط ہونے کو واضح کرتے ہیں اور پھر جن جن قرآنی آیات سے ان کے نظریات کا باطل ہونا معلوم ہوتا ہے، وہاں بھی اس پر پوری پوری تنبیہ کرتے چلے جاتے ہیں۔ 

تفسیر کا مجموعی انداز قدرے دقیق ہے، مگر تسلسل سے مطالعہ کیا جائے تو انداز و اسلوب سمجھ آجانے کے بعد استفادہ کافی آسان سے آسان تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ یہ تفسیر متعدد محققین کی تحقیق سے شائع ہوچکی ہے۔ راقم السطور کے پاس اس کا وہ نسخہ ہے جو پانچ جلدوں میں ہے اور محترمہ فاطمہ یوسف الخیمی کی تحقیق سے شائع ہوا ہے۔

 

Comments