من عمل صالحا فلنفسه ومن أساه فعليها
>......................
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایاہے کہ جو نیک کام کرے گا تو اس کا نفع نیک کام کرنے والے ہی کو ملے گا اور جو برا کام کرے گا اس کا وبال بھی اسی برا کام کرنے والے پر پڑے گا۔
نىکی اللہ تعالیٰ ضائع نہیں کرتے،اور برائی پر فورا گرفت بھی نہیں کرتے نیکی کفر کے علاوہ کسی گناہ سے چاہے کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو ختم نہیں ہوتی لیکن اللہ رب العزت گناہ کو نیکیوں سے مٹاتے رہتے ہیں اور بڑے بڑے گناہوں کو بڑی نیکی یعنی توبہ سے مٹاکر ختم کردیتے ہیں اس طرح خداوند عالم
کا فضل وکرم ظاہر ہوتا ہے ایک مجوسی تھا اس کا بیٹا ایک مسلمان کے بیٹے کے ہمراہ کھیل رہا تھا مسلمان کا بیٹا روزے سے تھا روزوں کا موسم چل رہا تھا کھیل میں کچھ بات بنی بگڑی دونوں لڑ پڑے مجوسی نے اپنے بیٹے کو مسلمان روزے دار کے ساتھ لڑتے دیکھا تو اپنے بیٹے پر بہت ناراض ہوا بلایا اور اپنے بیٹے کو زور سے تھپڑ رسید کیا اور کہا روزے دار کا خیال کیوں نہیں کرتے؟
بات آئی گئی ہوگئی ایک عرصے کے بعد مجوسی مرگیا اور اس کے مذہب کے مطابق اس کی آخری رسومات ادا کی گئیں ایک صاحب نے مجوسی کو خواب میں دیکھا پوچھا : کیا حال ہے میں تم کو جنت میں دیکھ رہا ہوں
مجوسی نے جواب دیاکہ مرتے وقت میں نے جاں کنی کے عالم سے پہلے کلمہ پڑھ لیا تھا اور مسلمان بن کر میرا انتقال ہوا تھا اس لیے جنت ملی
اور اللہ رب العزت نے فرمایا کہ تمہارے اس عمل کی وجہ سے تم کو کلمہ نصیب ہوا جو تم نے روزے کے احترام میں اپنے بچے کو تھپڑ رسید کیا تھا یہی ادا اللہ کو پسندآگئی یہ نیکی چھوٹی سی سہی لیکن نیکی برباد نہیں ہوتی۔
Comments
Post a Comment