امانت علی قاسمی
انگوٹھی کا پہننا آپ ﷺ سے ثابت ہے، اور آپ کے بعد خلفاء راشدین ،اس کے بعد تابعین و تبع تابعین سے بھی ثابت ہے ، عہد نبوی میں شاہان مملکت کے پاس خط بھیجنے کے لیے مہر کی ضرورت ہوتی ہے اور اس وقت انگوٹھی کے ذریعہ مہر کا کام لیا جاتا تھا،اس لیے کہ آپ ﷺ نے انگوٹھی بنوائی تھی، جس پرــ محمد رسول اللہ نقش تھا۔
انگـوٹھی کس قسم کی ہونی چاہیے؟ روایات سے پتہ چلتا ہے کہ چاندی کی انگوٹھی چار ماشہ کے بقدر جائز ہے چاندی کے علاوہ دوسری دھاتوں کی انگوٹھي مردوں کے لیے درست ہے یا نہیں؟روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ناجائز ہے؛ چنانچہ ایک روایت میں ہے کہ ایک آدمی آپ ﷺ کے پاس پیتل کی انگوٹھی پہن کر آیا تو آپ نے فرمایا کہ کیا بات ہے کہ میں تم سے بت کی بو محسو س کررہا ہوں اس شخص نے وہ انگوٹھی اتار کر پھینک دی، پھر دوبارہ آپ کی خدمت میں آیا اس وقت اس کے ہاتھ میں لوہے کی انگـوٹھی تھی آپ تو نے فرمایا کہ کیا بات پر میں تمہارے اوپر جہنمیوں کا زیور دیکھ رہا ہوں اس شخص نے وہ انگوٹھی اتار دی اور پوچھا یا رسول اللہ پھر میں کس چیز کی انگـوٹھي بناؤں تو آپ نے فرمایا کہ چاندی کی انگوٹھی بناؤ اور وہ ایک مثقال سے کم ہو ۔ معلوم ہوا کہ چاندی کی انگوٹھی جائز ہے اور اس کے علاوہ دووسرے دھات کی انگـوٹھی مردوں کے لیے جائز نہیں ہے ۔ دوسرے دھات میں سونا بھی شامل ہے اس لیے مردوں کے لیے سونے کی انگوٹھی بھی ناجائز ہے ۔حضور ﷺ نے سونےکی انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا ہے چنانچہ علامہ شامی لکھتے ہیں : لما روى الطحاوي بإسناده إلى عمران بن حصين وأبي هريرة قال: «نهى رسول الله - صلى الله تعالى عليه وسلم - عن خاتم الذهب ، وروى صاحب السنن بإسناده إلى عبد الله بن بريدة عن أبیہ أن رجلا جاء إلى النبي - صلى الله تعالى عليه وسلم - وعليه خاتم من شبه فقال له: مالي أجد منك ريح الأصنام فطرحه ثم جاء وعليه خاتم من حديد فقال: مالي أجد عليك حلية أهل النار فطرحه فقال: يا رسول الله من أي شيء أتخذه؟ قال: اتخذه من ورق ولا تتمه مثقالا» " فعلم أن التختم بالذهب والحديد والصفر حرام فألحق اليشب بذلك لأنه قد يتخذ منه الأصنام، فأشبه الشبه الذي هو منصوص معلوم بالنص إتقاني والشبه محركا النحاس الأصفر قاموس وفي الجوهرة والتختم(رد المحتار،فصل فی اللبس ، 6/359)
مردوں کے لیے سونے کی انگوٹھی کا حکم
مردوں کے لیے سونے کی انگـوٹھی کا مسئلہ حضرات اہل علم کے درمیان مختلف فیہ ہے :حضرت عکرمہ، ابوالقاسم ازدی ، اورامام اعمش ؒنے سونے کی انگوٹھی پہننےکو جائز قرار دیا ہے۔ان کی دلیل یہ ہے کہ حضرات صحابہ سے سونے کی انگوٹھی پہننا ثابت ہے ۔ ، امام طحاوی نے شرح معانی الآثار میں اس سلسلے میں متعدد روایات ذکر کی ہیں جس میںحضرت طلحہ ،حضرت صہیب، حضرت سعد اور حضرت سعید بن العاص وغیرہ حضرات صحابہ سے سونے کی انگوٹھی پہننا ثابت ہے ۔بعض صحابہ سے ان کی زندگی کے اخیر وقت تک سونے کی انگـوٹھی پہننا ثابت ہے ، حضرت طلحہ کا جس وقت جنگ جمل کے موقع پر انتقال ہوا اس وقت ان کے ہاتھ میں سونےکی انگوٹھی تھي ۔الطبقات الکبری کے علاوہ متعدد کتابوں میں یہ روایت موجود ہے ۔عن إسماعيل بن محمد عن مصعب بن سعد , قال: رأيت في يد طلحة بن عبيد الله خاتما من ذهب , ورأيت في يد صهيب , خاتما من ذهب , ورأيت في يد سعد خاتما من ذهب ۔عن محمد بن زيد، عن عيسى بن طلحة، أنه أخبرہ أن طلحة بن عبيد الله , قتل وفي يده خاتم من ذهب ۔عن يحيى بن سعيد بن العاص، أن سعيد بن العاص، قتل وفي يده خاتم من ذهب(شرح معانی الآثار ، باب التختم بالذہب ، 4/259)
ان حضرات کی دوسری دلیل یہ ہے کہ سونے چاندی کے استعمال کی مطلقا ممانعت ہے ،اور جس طرح سونے کے برتن میں کھانے پینے کی ممانعت ہے، اسی طرح چاندی کے برتن میں بھي کھانے کی ممانعت ہے یعنی حرمت کے تعلق سے سونا، چاندی دونوں کا حکم یکساں ہے تو جب چاندی کی انگوٹھی پہننا جائز ہے تو سونے کی انگـوٹھی پہننا بھي جائز ہوگا و لہم فی ذلک من النظر نہیا واحدا و منع من الاکل فی آنیۃ الفضۃ کما منع من الأکل فی آنیۃ الذہب فلما کان قد سوی فی ذلک بین الذہب و الفضۃ و جعل حکمہماحکما واحدا ثم ثبت أن خاتم الفضۃ لیس مما نہی عنہ ، کان کذلک خاتم الذہب(نخب الافکا ر فی تنقیح معانی الاخبار،فی شرح شرح معانی الآثار 22/246)۔
جمہور علماء اور ائمہ اربعہ کے نزدیک مردوں کے لیے سونے کی انگوٹھی حرام ہے۔چنانچہ امام طحاوی فرماتے ہیں:خالف القوم المذکورین جماعۃ آخرین و أراد بہم ، سعید بن جبیر ، والنخعی و الثوری و الاوزاعی و علقمۃ و مکحولا و ابا حنیفۃ وأصحابہ، و مالکا و الشافعی و احمد و اسحاق فانہم کرہوا خواتیم الذہب للرجال وروی ذلک عن عبد اللہ بن مسعود و عبد اللہ بن الزبیر و انس بن مالک و علی بن ابی طالب وعبد اللہ بن عباس و عبد اللہ بن عمر، و عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہم (نخب الافکار ، کتاب الکراہیۃ،22/247) لتَّخَتُّم بِالذَّهَبِ)۔(الثَّامِنَةُ) فِيهِ تَحْرِيمُ التَّخَتُّمِ بِالذَّهَبِ، وَهُوَ مُجْمَعٌ عَلَيْهِ فِي حَقِّ الرِّجَالِ، وَلَا يَخْتَصُّ ذَلِكَ بِكَوْنِ جَمِيعِهِ ذَهَبًا فَلَوْ كَانَ بَعْضُهُ ذَهَبًا، وَبَعْضُهُ فِضَّةٌ حَرُمَ أَيْضًا(طرح التثریب فی شرح ا لتقریب3/233)۔
جو حضرات سونےکی انگوٹھی کو حرام کہتے ہیں ان کی دلیل یہ ہے کہ آپ ﷺ نے سونے کی انگوٹھی پہننے کو منع فرمایا ہے۔ فتاوی عالمگیری میں ہے :والتختم بالذهب حرام في الصحيح، كذا في الوجيز للكردري.(فتاوی عالمگیری ، الباب العشر فی استعمال الذہب ، 5/335)ہدایہ میں ہے : (والتختم بالذهب على الرجال حرام) لما روينا. وعن علي - رضي الله عنه - «أن النبي - عليه الصلاة والسلام - نهى عن التختم بالذهب» ولأن الأصل فيه التحريم، والإباحة ضرورة الختم أو النموذج، وقد اندفعت بالأدنى وهو الفضة(ہدایہ مع فتح القدیر،فصل فی اللبس ، 10/22)امام طحاوی ؒنے بھی سونے کی انگـوٹھی کے حرمت پر متعدد روایات ذکر ہیں۔ چنانچہ فرماتے ہیں: عن علي بن أبي طالب قال: نهانا رسول الله صلى الله عليه وسلم عن التختم بالذهب -قال: أتيت عبد الله بن مسعود فقال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن حلقة الذهب» [ص:261]عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده، أن رجلا، جلس إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وعليه خاتم من ذهب , فأعرض عنه رسول الله صلى الله عليه وسلم فلبس خاتم حديد , فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «هذه لبسة أهل النار» . فرجع فلبس خاتم ورق فسكت عنه رسول ا لله صلى الله عليه وسلم (شرح معانی آثار، باب ا لتختم بالذہب ، 4/261،حدیث نمبر:6768 )
امام طحاوی نے سونے کی حلت و حرمت دونوں طرح کی روایات کو نقل کرنے کے بعد ثابت کیا ہے کہ سونےکی انگوٹھی پہننا ابتداء میں جائز تھا بعد میں منسوخ ہوگیا۔خود آپ ﷺ سے ابتداء میں انگوٹھی پہننا ثابت ہے بعد میں آپ نے سونے کی انگوٹھی پہننا ترک کردیاتھا ۔ عن عبد الله أن رسول الله صلى الله عليه وسلم اتخذ خاتما من ذهب , وجعل فصه مما يلي كفه , فاتخذه الناس , فرمى به , واتخذ خاتما من ورق , أو فضة(شرح معانی الآثارحديث نمبر" 6776)۔عن ابن عمر، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يلبس خاتما من ذهب,ثم قام فنبذه فقال لا ألبسه أبدا فنبذ الناس خواتيمهم(شرح معانی الأثار ، حدیث نمبر:6778) عن زياد , عامل البصرة , قال: وفدنا إلى عمر بن الخطاب رضي الله عنه مع الأشعري , فرأى علي خاتما من ذهب. فقال عمر: لقد تشبهتم بالعجم ثلاثا يقولها:تختموا بهذا الورق . قال: فقال الأشعري: أما أنا , فخاتمي حديد , فقال عمر: ذاك أخبث وأنتن(شرح معاني الآثار " حديث نمبر" 6753)ان تمام روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتداء میں سونے کی انگوٹھی پہننا جائز تھا بعد میں حرام قرار دے دیا گیا یہی وجہ ہے كه عهد صحابه ميں بھی سونے کی انگوٹھی پہننے کی ممانعت تھی اور حضرات صحابہ سونے کی انگوٹھی پہننے پر نکیر کیا کرتے تھے۔
علامہ بدر الدین عینیــ اباحت والی روایت کا جواب دیتے ہیں کہ جن صحابہ سے سونے کی انگـوٹھی پہننا ثابت ہے وہ حرمت سے پہلے کی روایت ہے یا یہ کہ اباحت و حرمت میں تعارض کی وجہ سے حرمت کو ہی ترجیح ہوگی ،وَالْجَوَاب عَنهُ أَن التَّرْجِيح للْمحرمِ وَمَا رُوِيَ من ذَلِك كَانَ قبل النَّهْي(عمدۃ القاری ، باب الامر باتباع الجنائز 8/11)
جن روایات میں حضرات صحابہ سے سونے کی انگوٹھی پہننا ثابت ہے بہت ممکن ہے کہ ان کو نسخ کی روایات کا علم نہ ہوا ہو،بصورت دیگر روایات کے تعارض کی صورت میں حلت و حرمت میں حرمت کو ترجیح دی جائے گی؛ چنانچہ ابن بطال شرح بخاری میں لکھتے ہیں: التختم بالذهب منسوخ لا يحل استعماله، لنهى النبى، عليه السلام، عنه، والذهب محرم على الرجال، حلال للنساء، ومن ترخص فى التختم بالذهب من السلف لم يبلغه النهى والنسخ والله أعلم.(شرح صحیح بخاری لابن بطال، باب خاتم الفضۃ،9/129)
خلاصہ یہ کہ سونےکی انگوٹھي خود آپ ﷺ اور حضرات صحابہ سے پہننا ثابت ہے لیکن بعد میں یہ حکم منسوخ ہوگیا اور آپ نے صریح طورپر سونے اورریشم کو مردوں کے لیے حرام قرار دے دیا ، اب جن روایات میں حرمت کا ذکر ہے وہ بعد کی روایتیں ہیں اور جن روایات میں سونے کی انگوٹھی پہننے کا ذکر ہے وہ ابتدائی زمانہ پر محمول ہیں ،اور جن صحابہ سے اخیر وقت تک سونے کی ا نگـوٹھی پہننا ثابت ہے ممکن ہے ان تک نسخ کی روایت نہ پہونچی ہو ں اسی وجہ سے ائمہ اربعہ کامردوں کے لیے سونے کی انگـوٹھی کے حرام ہونے پر اتفاق ہے ۔
Comments
Post a Comment