ادب

 ذیل میں اردو کے ایسے الفاظ اور جملے درج ہیں جن کا عموماً غلط یا غیر فصیح استعمال کیا جاتا ہے۔ تاہم اس بات کا امکان موجود ہے کہ اس وقت پیشِ نظر جن الفاظ یا جملوں کو غیر معیاری، نادرست یا غیر فصیح قرار دیا گیا ہے، وہ مستقبل میں معیاری اور فصیح قرار پائیں، لیکن فی الحال انھیں اساتذہ اردو غیر معیاری ہی خیال کرتے ہیں۔ ذیل میں درج الفاظ اور جملوں کا غلط استعمال اس قدر بڑھ چکا ہے کہ ممکن ہے آپ کو اخبارات اور کتب کے علاوہ جدید لغات میں بھی یہ غلطیاں نظر آئیں، چنانچہ ان سے صرف نظر کرنا چاہیے۔
0 ۔
عموماً کہا جاتا ہے: 
مجھے اسٹیشن پر ریل گاڑی کے لیے کافی انتظار کرنا پڑا.
لیکن درست جملہ یوں ہوگا: 
مجھے اسٹیشن پر ریل گاڑی کے لیے خاصا انتظار کرنا پڑا.
اس لیے کہ: کافی کا مطلب ہوتا ہے کفایت کرنے والا، جو ضرورت کے مطابق ہو، لہذا اس لفظ کو زیادہ کے معنی میں استعمال نہیں کرنا چاہیے،
اس کے بجائے، بہت، زیادہ، خاصا جیسے الفاظ استعمال کیے جا سکتے ہیں.
نمبر 1
عموماً کہا جاتا ہے: 
عوام اسے تسلیم نہیں کرتی.
لیکن درست جملہ یوں ہوگا: 
عوام اسے تسلیم نہیں کرتے.
اس لیے کہ: اردو میں لفظ عوام کو مؤنث استعمال کرنا سنگین غلطی ہے، یہ لفظ عامہ کی جمع ہے لہذا اسے جمع مذکر کے طور پر استعمال کرنا چاہیے۔ (نور اللغات)
نمبر 2
عموماً کہا جاتا ہے: 
اس لفظ کی املا غلط ہے.
لیکن درست جملہ یوں ہوگا: 
اس لفظ کا املا غلط ہے. 
اس لیے کہ: اردو میں لفظ املا کو مؤنث نہیں، مذکر استعمال کیا جاتا ہے۔ (بحوالہ نور اللغات)
نمبر 3
عموماً کہا جاتا ہے: 
وہ گھڑی آ پہنچی جس کا انتظار تھا.
لیکن درست جملہ یوں ہوگا: 
وہ گھڑی آگئی جس کا انتظار تھا.
اس لیے کہ: آپہنچنا کا محاورہ ہندی والوں نے عام کیا ہے، اردو میں یہ محاورہ حیرت، ناخوشی یا تنبیہ کے مواقع پر استعمال ہوتا ہے۔
چنانچہ عام مواقع پر اس کا استعمال خلاف محاورہ اور واجب الترک ہے۔ (بحوالہ لغات روزمرہ)
نمبر 4
عموماً لکھا جاتا ہے: 
ہمارے آس پڑوس کے ممالک۔۔۔ 
لیکن بہتر ہو گا کہ اسے اس طرح لکھا جائے: 
ہمارے پاس پڑوس کے ممالک۔۔۔ 
اس لیے کہ: آس پڑوس ہندی کی تحریری زبان میں ہے، اب اردو میں بھی استعمال ہوتا ہے.
لیکن تحریر کی حد تک پاس پڑوس بہتر اور آس پڑوس سے احتراز انسب ہے۔ (بحوالہ لغات روزمرہ)
 نمبر 5
عموماً کہا جاتا ہے: 
اس لفظ کی تحقیق کے لیے ہم نے فلاں لغت دیکھی.
لیکن درست جملہ یوں ہوگا: 
اس لفظ کی تحقیق کے لیے ہم نے فلاں لغت دیکھا.
اس لیے کہ: لفظ لغت بہ معنی فرہنگ مذکر ہے، مؤنث نہیں۔
نمبر 6
عموماً کہا جاتا ہے: 
ہم وہاں سے بے نیل و مرام آئے.
لیکن درست جملہ یوں ہوگا: 
ہم وہاں سے بے نیل مرام آئے.
اس لیے کہ: نیل یعنی پانا، حاصل کرنا اور مرام یعنی مقصد، نیل مرام کا مطلب ہوتا ہے حصول مقصد۔ 
لہذا ان دونوں لفظوں کے درمیان و کا استعمال درست نہیں۔
نمبر 7
عموماً کہا جاتا ہے: 
ہم نے کپڑے دھلے.
لیکن درست جملہ یوں ہوگا: 
ہم نے کپڑے دھوئے.
اس لیے کہ: دھلنا فعل لازم ہے جبکہ دھونا فعل متعدی؛ واضح رہے کہ فعل لازم میں کوئی مفعول نہیں ہوتا۔
نمبر 8
عموماً کہا جاتا ہے: 
مطالعہ کے دوران یہ واقعہ نظر سے گزرا.
لیکن درست جملہ یوں ہوگا: 
مطالعہ کے دوران میں یہ واقعہ نظر سے گزرا.
واضح رہے کہ: لفظ دوران کو میں کے بغیر استعمال کرنا ہندی زبان میں رائج ہے، نیز دوران میں کا استعمال اردو کے تمام مسلم الثبوت اساتذہ کے یہاں ملتا ہے۔
نمبر 9
عموماً کہا جاتا ہے: 
اردو نفاذ بارے...
لیکن درست جملہ یوں ہوگا: 
اردو کے نفاذ کے بارے میں...
اس لیے کہ: بارے کا مطلب ہوتا ہے کے متعلق، چنانچہ جس طرح اردو نفاذ متعلق جملہ غیر واضح اور غلط معلوم ہوتا ہے اسی طرح بارے کو مذکورہ بالا طریقہ سے استعمال کرنا غلط ہے،
لہذا جب بھی لفظ بارے کا استعمال کریں تو اس سے قبل کے اور اس کے بعد میں کا استعمال ناگزیر سمجھیں، یہی درست اور فصیح ہے۔ 
نمبر 10
عموماً کہا جاتا ہے: 
مجھے اس بات کی سمجھ نہیں آئی.
لیکن درست جملہ یوں ہوگا: 
مجھے یہ بات سمجھ میں نہیں آئی.
اس لیے کہ: سمجھ کا مفہوم ہوتا ہے عقل و فہم، چنانچہ اگر مذکورہ غلط جملہ میں سمجھ کی بجائے عقل کا استعمال کریں.




نگاہ برق نہیں چہرہ آفتاب نہیں
وہ آدمی ہیں مگر دیکھنے کی تاب نہیں

Comments