رزق صرف مال ہی نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ن: محمد الدوغان
ت: افتخار احمد بستوی
یہ ضروری نہیں کہ رزق ، مال ومتاع اور روپیے پیسے ہی ہوں ، حسن اخلاق اور جمال وکمال بھی رزق کہلاتے ہیں
پختہ عقل ودانائی بھی اللہ کا رزق ہے ،اس پر حلم وقوت برداشت بھی روزی ہے جو عقل ودانش میں اضافے کا باعث ہے۔
نیک بیوی ،با ل بچے اور دور ونزدیک کی رشتے داریاں بھی رزق میں شمار ہیں، نفع بخش علم اور لمبی عمر بھی رزق ہے ،آدمی کا دل صاف مثل آئینہ ہو ،دل محبت و الفت سے سرشار ہو اور آپس میں داد و دہش اور وفا کیش تحفوں کا لین دین ہو ،اسے بھی اہل دانش وبینش رزق کہتے ہیں
طبیعت خیر کی طرف مائل اور منتظر ہو، اپنے ماحول میں ہر چہار جانب خیر و صلاح کا دور دورہ ہو ،تقوی کا لباس انسان زیب تن کیے ہو، جس کی برکت سے عزت و وقار حاصل ہو،دل پرسکون اور مطمئن ہو، یہ سب چیزیں بھی درحقیقت رزق ہیں
پاکیزہ مال ،حلال کھانا پرسکون آرامگاہ بھی رزق ہے اس لیے اللہ کا شکر ادا کرتے رہو کہ خدا نے بے شمار رزق دے رکھا ہے اور قناعت کی زندگی بسر کرو مال ہی کو صرف رزق نہ سمجھو۔
Comments
Post a Comment