عظیم کالم نگار رعایت اللہ فاروقی صاحب کا جامعہ الرشید اور استاذ مفتی عبد الرحیم صاحب کو خراج تحسین
( استاذ مفتی عبد الرحیم صاحب کس پائے کے آدمی ہیں ،اس مضمون میں فاروقی صاحب کی زبانی سنیں عسکریت سے تعلیمی میدان کی طرف آنا کس قدر دانشمندانہ فیصلہ ہے ،اس کی مدح سرائی بھی فاروقی صاحب سے سنیں ۔ اور جامعہ الرشید کیسے تعلیمی انقلاب برپا کر رہا ہے ،یہ بھی فاروقی صاحب سے سنیں۔ بے حد شکریہ فاروقی صاحب )
پچیس برس کی کشمکش
( رعایت اللہ فاروقی )
میں 1989ء میں جامعہ بنوریہ میں درجہ سابعہ کا طالب علم تھا جب عصر کی نماز کے بعد جامعہ کے سپورٹس گراؤنڈ میں مفتی عبدالرحیم صاحب کو تقریبا روز ہی دیکھنے لگا۔ وہ والی بال کھیلنے وہاں آتے۔ تب میں نوجوان اور وہ جوان تھے۔ وہ “دارالافتاء و الارشاد” میں مفتی رشید احمد رحمہ اللہ کے نائب تھے جو سخت گیر فقہی موقف کے سبب دیوبندیت میں ٹھیک ٹھاک قسم کی تنہائی کا شکار تھے۔ مفتی رشید احمد صاحب کو طبعا بھی وہ تنہائی پسند رہی ہوگی کیونکہ وہ گوشہ نشین قسم کے آدمی تھے، اپنے گوشے سے وہ صرف فجر کے بعد واک کی غرض سے نکلتے اور نارتھ ناظم آباد میں ضیاء الدین ہسپتال کے سامنے والے پارک میں جاتے۔ میرا اندازہ ہے کہ مفتی عبدالرحیم صاحب کو یہ تنہائی قبول نہ تھی۔ اسے ختم کرنے کی پہلی ترکیب اس زمانے میں یہ کی گئی کہ مفتی رشید احمد صاحب سے بیعت کرنے والے علماء کے لئے زیرو میٹر موٹرسائیکل کے تحفے کی سکیم متعارف کرائی گئی لیکن ان چمکتی دمکتی موٹرسائیکلوں پر صرف قراء کرام کی ہی رال ٹپکی مولوی بدستور دور ہی رہے۔ آج جب غور کرتا ہوں تو یقین سا ہونے لگتا ہے کہ مفتی عبدالرحیم کا روز جامعہ بنوریہ والی بال کے لئے آنا محض والی بال کے لئے نہ رہا ہوگا بلکہ یہ درحقیقت “والی بال ڈپلومیسی” رہی ہوگی۔ اگر یہ ڈپلومیسی تھی تو اس کے نتائج بھی حوصلہ افزاء نہیں تھے۔ تیسری کوشش 1991ء میں سپاہ صحابہ کی سرپرستی کی صورت کی گئی مگر یہ سرپرستی بھی ایک سال کے اندر اندر فیل ہوگئی۔ اس کے فورا بعد حرکت المجاہدین کی سرپرستی کا مرحلہ آیا جہاں پہلی بار میں اپنے گروپ کے ساتھ ان کے مقابل آیا۔ حرکت المجاہدین کو ان کی گود میں رکھنے کے تنہاء ذمہ دار مولانا مسعود اظہر تھے جنہیں اس وقت کے ناظم امور حرب مولانا عبدالجبار کی بھرپور سنگت حاصل تھی۔ اگرچہ زبانی طور پر ہم روحانی برکت کا پرچار کرتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم مذہبی لوگوں کے ہاں “سرپرستی” کے کل دو مقاصد ہوتے ہیں۔ پہلا یہ کہ تمام مولوی جان جائیں کہ ہمارے سر پر ایک ہیوی ویٹ حضرت کا ہاتھ ہے لھذا رکاوٹ بننے سے گریز کیا جائے اور دوسرا یہ کہ ہیوی ویٹ حضرت کا نام چندے میں “برکت” کی گارنٹی ہو۔ مفتی رشید احمد صاحب کی سرپرستی میں ایک تیسری چیز کو غلبہ حاصل تھا اور وہ یہ کہ تنظیم کی فیصلہ سازی میں مفتی عبدالرحیم کا عمل دخل بہت بڑھ گیا تھا اور یہ اس حد تک بڑھا کہ انہوں نے حرکت المجاہدین اور حرکت الجہاد الاسلامی کے انضمام کا ڈول ڈال دیا اور وہ بھی یوں کہ دونوں جماعتوں کے امیر برطرف کردیئے جائیں جن کا اتحاد کے نتیجے میں وجود میں آنے والی جماعت “حرکت الانصار” سے کوئی تعلق نہ ہو۔ “استاذ صاحب ! استاذ صاحب !” سن سن کر ہمارے کان تو پہلے ہی پک چکے تھے جوں ہی یہ منصوبہ سامنے آیا ہم نے کھلی مزاحمت کی راہ اختیار کرلی۔ اس مزاحمت کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ اتحاد کرانے میں تو کامیاب ہوگئے لیکن دونوں امراء کو اس سے باہر رکھنے میں ناکام رہے جبکہ سب سے اہم کامیابی ہماری یہ رہی کہ اتحاد کے نتیجے میں امارت کا خواب دیکھنے والے مولانا مسعود اظہر اسی عہدے پر رہ گئے جس پر وہ حرکت المجاہدین میں تھے۔ انضمام کے موقع پر مولانا مسعود اظہر کے حلقے کی طرف سے مفتی رشید احمد صاحب کی جانب منسوب کرکے یہ بات پھیلائی گئی کہ انہوں نے فرمایا ہے کہ اس انضمام کے نتیجے میں مجھے دہلی کے لال قلعے پر اسلام کا پرچم لہراتا نظر آ رہا ہے۔ اس کا جواب گرومندر میں واقع اپنے دفتر سے ہم نے یہ دیا کہ اس انضمام کے نتیجے میں دہلی کے لال قلعے پر اسلام کا پرچم نہیں لہرائے گا بلکہ یہ انضمام تین سال کے اندر اندر ختم ہو جائے گا اور جب تنظیمیں واپس پرانی پوزیشن پر بحال ہوں گی تو مٹ بھی جائیں گی۔
اتحاد کے فورا بعد مولانا مسعود اظہر کشمیر میں گرفتار ہو گئے جبکہ ناظم اطلاعات و نشریات مولانا عبدالحمید عباسی ریڑھ کے شدید عارضے سے دوچار ہوگئے۔ مسعود اظہر کی گرفتاری کے نتیجے میں مفتی عبدالرحیم صاحب کی تنظیم پر گرفت کھڑے کھلوتے ختم ہوگئی جبکہ عباسی صاحب کی علالت کا نتیجہ یہ نکلا کہ میں تنظیم کے قائمقام ناظم اطلاعات و نشریات کے طور پر مرکز میں آ گیا۔ میں نے آتے ہی حرکت کے لٹریچر اور جریدے میں ان کے تذکرے مکمل طور پر ختم کر دیئے۔ تیسرے سال میرے دعوے کے مطابق حرکت الانصار ٹوٹ کر بکھر گئی جس نے میری فسق و فجور سے بھرپور بصیرت پر مہر تصدیق ثبت کردی۔ مفتی عبدالرحیم کوٹ بلوال جیل میں موجود مسعود اظہر سے مستقل رابطے میں تھے اور شدت سے ان کی واپسی کے منتظر تھے۔ یہ واپسی 2000ء میں ہوگئی۔ وہ مفتی عبدالرحیم کی آغوش سے اٹھ کر گئے تھے، لوٹ کر بھی وہیں آئے۔ ان کا سارا وقت وہیں گزرنے لگا اور صرف منتخب لوگوں کی ان تک رسائی تھی۔ وہیں جیش محمد وجود میں آئی جس میں حسبِ توقع مولانا عبدالجبار ان کے ساتھ شریک رہے۔ مجھے عسکریت سے دور ہوئے تین سال ہوچکے تھے اور ان دنوں میں روزنامہ اوصاف میں کالم نگار تھا۔ اس موقع پر میں نے مفتی عبدالرحیم صاحب کو اپنے زندہ ہونے کا احساس دلاتے ہوئے اپنا مشہور کالم “مسعود اظہر کو رہا کرو !” لکھا۔ اس کالم کے نتیجے میں پورے جہادی سرکل میں یہ بحث چھڑ گئی کہ مسعود اظہر تو انڈیا کی قید میں تھے جہاں سے وہ رہا ہو کر آگئے اور پاکستان میں بھی وہ کسی جیل میں نہیں ہیں پھر رعایت اللہ فاروقی کس رہائی کی بات کر رہا ہے ؟ ملک کے طول و عرض سے جو بھی مجھ سے اس بابت پوچھتا، میں کہتا “وہ مفتی عبدلرحیم کی قید میں ہیں” یہ کالم اس قدر اثر انداز ہوا کہ اس کے جواب میں چار مضامین روزنامہ اوصاف میں شائع کرائے گئے جبکہ مولانا مسعود اظہر نے بقلم خود اپنے ترجمان جریدے میں میرے خلاف اداریہ لکھ ڈالا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ میرے کالم کا جواب لکھنے والوں میں عصمت اللہ معاویہ بھی شامل تھا۔ میں چونکہ عسکریت سے الگ ہو چکا تھا اور بہت جلد مسعود اظہر بھی مفتی صاحب سے دور ہو گئے سو خاموشی اختیار کرنا ہی مناسب سمجھا۔ سات سال بعد میں روزنامہ امت میں بطور کالم نگار آیا تو یہ کراچی کے کسی اخبار میں میری پہلی انٹری تھی۔ یہاں میں نے اوپر تلے چار کالم مفتی عبد الرحیم صاحب کے خلاف لکھے جن کا کوئی جواب نہ آیا۔ 2009ء میں پہلی بار مجھے خیال آیا کہ یار بہت لڑ لئے اب صلح ہونی چاہئے۔ میں اس سال اور اس سے اگلے سال تین بار جامعۃ الرشید گیا لیکن سرد مہری کا ہی سامنا ہوا چنانچہ فاصلہ اختیار کر لیا۔ اس دوران برادرم فیصل شہزاد نے خواتین کا اسلام کے لئے کچھ لکھنے کی فرمائش کی تو یہ کہہ کر انکار کردیا “کیوں اپنی نوکری کے دشمن ہوتے ہو ؟” ایک دوطلبہ نے سالانہ تقریب تقسیمِ اسناد میں مدعو کیا تو انہیں بھی سمجھایا کہ اس سے آپ کو نقصان ہوگا۔
پچیس برس پر محیط کشمکش کی اس مختصر سمری پر اگر آپ غور کریں تو اس میں کہیں بھی یہ نظر نہیں آتا کہ مفتی عبدالرحیم نے میرے خلاف فلاں اقدام کیا۔ اس پوری تاریخ میں جو بھی کیا میں نے ہی کیا اور یقین جانیئے بہت ہی جارحانہ کیا کہ تب آتش جوان سے بھی کچھ زیادہ ہی تھا۔ یہ تفصیل میں نے اس سے قبل کبھی بھی نہیں لکھی۔ آج اس لئے لکھی تاکہ آپ کو اندازہ ہو سکے کہ مفتی عبدالرحیم صاحب کا مجھ جیسے حریف کو جامعۃ الرشید مدعو کرنا ان کی کس درجے کی بڑائی ہے اور آپ جان سکیں کہ میرا وہاں جانا یہ ثابت کرتا ہے کہ آپ جتنا بھی لڑ لیں بالآخر چلنا آپ کو ساتھ ہی ہوتا ہے۔ کل کی اس یاد گار ترین ملاقات کی تفصیلات انشاءاللہ دوسرے حصے میں پیش کروں
پچیس برس کی کشمکش (دوسرا حصہ)
4 مارچ کو سیک سیمینار میں شرکت کی غرض سے پی سی کراچی کے زیور ہال میں داخل ہوا تو فیض اللہ خان اپنی روایتی گرم جوشی میں تھوڑا اضافہ کرکے ملے۔ حال احوال کے بعد فرمانے لگے
“آپ کو مفتی عبدالرحیم صاحب نے سلام کہا ہے”
میری بے اختیار ہنسی چھوٹ گئی۔ عرض کیا
“وہ اور مجھے سلام کہیں گے ؟”
فیض اللہ خان کے چہرے کی سنجیدگی بدستور برقرار رہی اور زور دے کر فرمایا
“میں سچ کہہ رہا ہوں، آپ کا بہت ہی احترام سے ذکر کیا انہوں نے اور مجھ سے کہا ہے کہ انہیں لے کر آئیں”
یہ کہتے ہوئے فیض اللہ خان نے ساتھ کھڑے ایک نوجوان عالم دین کو عبد الودود کے نام سے متعارف کرایا کہ یہ مفتی صاحب کے نمائندے ہیں اور ان سے انہوں نے کہا ہے کہ فاروقی کو لانا ہے۔ عبد الودود نے تصدیق کی تو میں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ فیض گئے ہوں گے تو فیس بک کے تذکروں میں میرا بھی ذکر آ گیا ہوگا سو مفتی صاحب نے رسما سلام بھی بھیج دیا ہوگا جو وقتا فوقتا قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن بھی بھیجتے ہیں لیکن فاصلے برقرار رکھ کر۔ میں نے بھی جوابی سلام پیش کرتے ہوئے ان دونوں سے کہا
“میں جامعۃ الرشید کو اپنا ادارہ سمجھتا ہوں اور مجھے وہاں جانے میں کوئی تردد نہیں”
سیمینار کا پہلا سیشن ختم ہوا تو عبد الودود نے بتایا کہ میں نے آپ کا سلام مفتی صاحب کو پہنچا دیا ہے، وہ اسلام آباد میں ہیں اور فرما رہے ہیں کہ 7 مارچ کو میری واپسی ہے اگر 8 کو آپ جامعہ آ جائیں تو مجھے بہت خوشی ہوگی۔ میں نے بلا تردد حامی بھر لی۔ 8 مارچ کو فیض اللہ خان کے ساتھ جامعۃ الرشید جاتے ہوئے میں نے ان سے کہا۔
“میں نے ابھی چند روز قبل شامی مہاجرین کے لئے ہونے والے چندے کے خلاف پوسٹ کی ہے۔ زیادہ امکان یہ ہے کہ یہ ملاقات اسی پس منظر میں ہونے جا رہی ہے۔ اگر ایسا ہی ہے تو یہ بہت ہی چھوٹا مقصد ہے۔ ایک موہوم سا امکان یہ ہے کہ مفتی صاحب نے سوچا ہو کہ بہت ہو گئیں یہ دوریاں، اب انہیں مٹنا چاہئے۔ اگر یہ مقصد ہوا تو یہ بڑی بات ہوگی”
میں عام طور پر بڑے علماء سے ننگے سر نہیں ملتا لیکن چونکہ یہ ملاقات ایک ایسے شخص سے تھی جس سے طویل کشمکش رہی تھی اور واضح نہیں تھا کہ ملاقات کے مقاصد کیا ہیں سو قصدا ننگے سر ہی گیا۔ مفتی صاحب جامعۃ الرشید کے وسیع و عریض لان میں کرسی پر تشریف فرما تھے۔ ہم جوں ہی لان میں داخل ہوئے ان کی نظر پڑ گئی۔ وہ فورا اٹھے اور بیس پچیس قدم چل کر ہماری جانب آئے تو اسی لمحے مجھے یقین ہو گیا کہ یہ ملاقات شامی مہاجرین والے مسئلے پر نہیں ہو سکتی اور میرا ننگے سر آنا ٹھیک نہ تھا۔ وہ بہت تپاک سے ملے۔ عصر کی نماز میں پندرہ بیس منٹ تھے سو نشست کے اس مرحلے میں رسمی گفتگو ہی ہوئی۔ نماز کے بعد جامعہ کے مہمان خانے میں پہلی باقاعدہ نشست ہوئی جس میں جامعہ کی منیجمنٹ کے کچھ اور حضرات بھی شریک رہے۔ اس نشست میں زیادہ میں نے ہی بات کی اور ان سب نے میری گزارشات پوری توجہ اور بھرپور محبت کے ساتھ سنیں۔ میں نے دو گزارشات کیں۔ پہلی یہ کہ
“وقت بہت ہی مشکل آ پہنچا ہے۔ ہماری قدیم حکمت عملی اب شدید نقصان کا باعث ہے۔ یہ وہ پرانا وقت نہیں کہ رعایت اللہ فاروقی کو آپ 27 سال تک دھکے دے دے کر تھک جائیں مگر وہ آپ کے حلقے سے نہ نکلے بلکہ اب وہ نسل آ گئی ہے جو آپ کے معمولی سے دھکے پر بھی آپ کو چھوڑ کر چلی جائے گی۔ انسان متمدن ہے، اسے ہر حال میں دوسروں کی سنگت درکار ہے۔ آپ اپنی مجلس سے نکالیں گے تو وہ جنگل کا نہیں بلکہ کسی اور مجلس کا ہی رخ کرے گا اور یقین جانیئے باہر ایسی خوشبودار مجالس ہیں کہ ہوش اڑا دیتی ہیں، یہ ڈالروں کی خوشبو والی مجالس ہیں اور وہ بیٹھے ہی اس تاک میں ہیں کہ جسے آپ نکال دیں اسے وہ گود لے لیں لھذا میری درخواست ہے کہ بچوں کو دھکیلنا بند کریں۔ وہ جیسے بھی ہیں آپ ہی کے بچے ہیں۔ انہیں سینے سے لگائے رکھیں۔ یہی بگڑے ہوئے بچے کل آپ کے کام آئیں گے۔ عمر کے اس مرحلے پر نوجوان زبردست ذہنی ٹوٹ پھوٹ سے گزرتے ہیں اور یہی وہ عرصہ ہے جس میں انہیں سنبھالے رکھنے کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ ایک بار وہ چالیس برس کی عمر کو پہنچ جائیں تو پھر خود بخود ان کی طبیعت میں ٹھراؤ آ جاتا ہے۔ سوشل میڈیا وہ شاہراہ ہے جہاں سے آپ کے بچے اغوا ہو رہے ہیں اور اغوا کاروں کو بھی کسی للو پنجو میں نہیں بلکہ بڑے مولویوں کے بچوں میں دلچسپی ہے۔ انہیں مولانا بنوری، مفتی نظام الدین شامزئی جیسے بڑے علماء کے بچے اغوا کرنے ہیں تاکہ دنیا کو بتا سکیں کہ وہ مولانا بنوری اور مفتی نظام الدین شامزئی کے بچوں کو “راہ راست” پر لانے میں کامیاب ہوگئے ہیں اور اغوا کی ہر واردات پر ان کا ماسٹر مائنڈ ان سے کہہ سکے کہ “موگیمبو خوش ہوا !” اپنے بچوں کو ہر حال میں اپنے قریب رکھیں۔ ان کے سوالات کے جوابات دیں، انہیں گستاخ کہہ کر دہتکاریں مت۔ آپ بچوں سے سو فیصد اتفاق کی امید رکھتے ہیں، سو فیصد تو آج کل کا بچہ ماں باپ کی بھی نہیں مانتا اور ماں باپ بھی چھوڑ دیں، سو فیصد آج کا مسلمان اللہ اور اس کے رسول کی بھی نہیں مان رہا تو آپ کی کیسے مانے گا ؟”
اس پر مفتی صاحب نے خوبصورت اضافہ کرتے ہوئے فرمایا
“حالانکہ اللہ اور اس کے رسول کی بات سو فیصد درست ہوتی ہے جبکہ ہماری بات تو سو فیصد درست بھی نہیں ہوتی”
دوسری گزارش یہ کی کہ
“ہمارے سماج میں مولوی کے خلاف بات کرنے والے افراد دو طرح کے ہیں۔ پہلے وہ جو لادین ہیں۔ وہ دنیا کے کسی بھی مذہب کو نہیں مانتے۔ ان کا جھگڑا اسلام سے نہیں بلکہ دنیا کے ہر مذہب سے ہے۔ اب چونکہ پاکستان مسلم ریاست ہے اور یہاں اسلام ہی ہر طرف زیر بحث ہے سو وہ اسلام اور مولوی کے خلاف بات کر رہے ہیں، اگر یہاں کوئی اور مذہب ہوتا تو یہ اسلام نہیں بلکہ اس دوسرے مذہب کے خلاف بول رہے ہوتے۔ یہ گروہ ایک معمولی اقلیت ہے۔ دوسرے وہ لوگ ہیں جو لادین نہیں ہیں پکے دین دار ہیں اور میرے نزدیک ہر وہ شخص دین دار ہے جو نماز پڑھتا ہے۔ یہ دین دار لوگ مولوی کے خلاف اس لئے بولتے ہیں کہ یہ مولوی سے تھوڑے سے ناراض ہیں، یہ مخالفت نہیں کر رہے بس ناراضگی کا اظہار کر رہے ہیں اور ہم انہیں دین دشمن سمجھ لیتے ہیں۔ یہ ناراض لوگ بہت ہی معمولی سی بات پر ناراض ہیں اور وہ یہ کہ جب یہ ہمارے قریب آتے ہیں تو ہم انہیں داڑھی رکھنے دعوت دینی شروع کردیتے ہیں۔ ان کی پتلون اتار کر شلوار پہنانے کی فکر میں لگ جاتے ہیں۔ یہ دیکھ کر وہ ایسا بدکتا ہے کہ اگلے دس سال تک کسی مولوی کے قریب نہیں پھٹکتا۔ ہمیں لوگوں کی ذاتی زندگی میں دخل دینا بند کرنا ہوگا۔ ہمیں ان سے صرف دوستی لگانی ہوگی۔ اگر ہمارے کردار میں دم ہوا تو ہمارا ماحول اور ہماری دوستی خود بخود ان میں تبدیلی رونما کریگی اور یہ پائیدار تبدیلی ہوگی۔ زبانی دعوت کے مقابلے میں ما حول کی دعوت بے پناہ مؤثر ہوتی ہے۔ زبان کی دعوت جذبات کو متاثر کرتی ہے جبکہ ماحول کی دعوت روح پر اثر چھوڑتی ہے۔ لھذا ہمیں لوگوں میں شریعت ایزی لوڈ نہیں کرنی چاہئے۔ بس ان سے دوستی کرکے انہیں اپنے قریب رکھنے کی حکمت عملی اختیار کرنی چاہئے۔ میرے فیس بک فرینڈ سب کے سب دین ہی کی نسبت سے مجھ سے جڑے ہوئے ہیں، وہ آپ سے دور لیکن میرے قریب آتے ہیں۔ اور اس لئے قریب آتے ہیں کہ جانتے ہیں یہ مولوی ہماری پتلون نہیں اتارے گا، یہی لوگ روز انبکس میں شرعی مسائل پوچھ رہے ہوتے ہیں اور ظاہر ہے کہ عمل کے لئے ہی پوچھتے ہیں۔ میں ان سے فلموں پر بھی بات کرتا ہوں، میوزک بھی ان کے ساتھ شیئر کرتا ہوں۔ یہ سب اس لئے کرتا ہوں تاکہ وہ مجھ سے مانوس رہیں۔ انہیں میں مقدس تخت پر بیٹھا کوئی “حضرت” نہیں بلکہ اپنا اپنا سا لگوں، وہ فلم اور میوزک کی موج مستی کرتے ہیں تو کریں لیکن دین سے بھی جڑے رہیں۔ ان کے دین سے جڑے رہنے کی خاطر مجھے ان کا ہر عیب قبول ہے” –
میں اپنی بات کر چکا تو مفتی عبد الرحیم صاحب نے فیض اللہ خان کی جانب دیکھتے ہوئے فرمایا
“میں نے فیض اللہ خان صاحب سے چند روز قبل یہی کہا تھا کہ رعایت اللہ فاروقی صاحب کے خیالات اور ہمارے خیالات میں کوئی تضاد نہیں لیکن پتہ نہیں کیوں ہم ایک پیج پر نہیں”
پھر میری انکھوں میں دیکھتے ہوئے بہت زور دے کر بولے
“مولانا رعایت اللہ فاروقی صاحب ! جو آپ فرما رہے یہی ہماری بھی سوچ ہے اور ہم نے جامعۃ الرشید کو اسی فکر پر استوار کیا ہے۔ اس مرحلے تک پہنچنے کے لئے میں بہت کٹھن مزاحمت سے گزرا ہوں۔ یہ مزاحمت باہر سے بھی تھی اور خود ہمارے ادارے کے اندر سے بھی۔ چند سال قبل صورتحال یہ تھی کہ میں بزنس کمیونٹی کے کسی فرد یا کسی اور پروفیشنل کو جامعہ مدعو کر لیتا اور ان کا اکرام کرتا تو ہمارے ادارے کے ہی افراد مجھ سے کہتے “آپ کیسے کیسے لوگوں کو لے آتے ہیں، آپ ان پتلون والوں کا اکرام کیوں کرتے ہیں ؟” لیکن میں نے ہمت نہیں ہاری اور میں اپنے ان رفقاء کو بٹھا کر گھنٹوں سمجھاتا رہا کہ ان پتلون والوں کو میں آپ ہی کے لئے لاتا ہوں، آپ کا اور ان کا ساتھ چلنا معاشرے میں بہتری کے لئے بہت ضروری ہے۔ الحمدللہ وہ باتیں سمجھ آنے لگیں۔ ماحول اتنا تنگ تھا کہ جب میں نے اپنی شوریٰ کو آگاہ کیا کہ میں قاضی حسین احمد رحمہ اللہ کو مدعو کر رہا ہوں تو سب چونک اٹھے اور بہت سوں کی پیشانیوں پر بل پڑ گئے لیکن میں قاضی صاحب کو لا کر رہا۔ یہاں باہر لان میں اپنے اساتذہ کو قاضی صاحب کے ساتھ بٹھایا اور قاضی صاحب نے ان سے گفتگو فرمائی تو سارے فاصلے پلک جھپکتے ختم ہوگئے۔ اسی ملاقات میں اگلا قدم اٹھاتے ہوئے میں نے قاضی صاحب سے درخواست کی کہ آپ ہمیں تین دن عنایت فرما دیں، ایسے تین دن جن کے دوران آپ کا ہر منٹ یہاں جامعہ میں گزرے اور آپ بالکل اکیلے ہوں۔ آپ کی جماعت یا فیملی کا کوئی ایک بھی فرد ساتھ نہ ہو۔ قاضی صاحب نے شفقت فرمائی اور کچھ عرصے بعد وہ بالکل اکیلے تشریف لے آئے، ہم گئے اور انہیں ایئرپورٹ سے اپنے ساتھ لے آئے۔ میں اور میری شوریٰ نے وہ تین دن ان کے ساتھ گزارے۔ میں نے قاضی صاحب سے کہا کہ آپ ان تین ایام میں اپنی پوری زندگی کے تجربات ہمارے ساتھ شیئر فرمائیں۔ اپنی چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی ناکامیاں اور کامیابیاں ہمارے سامنے رکھیں اور ہمیں آگاہ فرمائیں کہ آپ کے خیال میں ان ناکامیوں اور کامیابیوں کے اسباب کیا تھے تاکہ جن تجربات میں آپ ناکام ہوئے انہیں ہم دہرائیں نہیں اور جن میں آپ کامیاب ہوئے ان سے ہم استفادہ کرسکیں۔ قاضی صاحب بہت بڑے انسان تھے انہوں نے اپنی پوری زندگی ان تین ایام میں ہمارے سامنے کھول کر رکھدی جو ہمارے پاس قاضی صاحب رحمہ اللہ کی امانت ہے اور ان تین ایام میں ہم نے ان سے اتنا سیکھا جس کا کوئی اندازہ نہیں۔ یہی تجربہ ڈاکٹر محمود احمد غازی رحمہ اللہ کے حوالے سے بھی کیا اور ڈاکٹر صاحب چونکہ ایک بہت ہی ممتاز ماہر تعلیم تھے تو ان کے حوالے سے میری یہ سوچ بنی کہ انہیں مستقل ہمارے ہی پاس ہونا چاہئے۔ میں نے ان سے کچھ عرصے بعد درخواست کی تو انہوں نے قبول بھی فرما لی لیکن میرے رفقاء رکاوٹ بن گئے کہ ڈاکٹر صاحب کی داڑھی چھوٹی ہے اور وہ کوٹ پتلون بھی پہنتے ہیں، چنانچہ میں نے ڈکٹر صاحب سے گزارش کی کہ ابھی تھوڑا سا وقت لگے گا، مجھے ماحول بنانا پڑے گا۔ پھر میں نے اپنے رفقاء کی سوچ میں وسعت پیدا کرنے کی نئی محنت شروع کی اور جب اس کے نتائج سامنے آگئے تو ایک سال بعد میں نے ڈاکٹر صاحب سے دوبارہ رابطہ کیا اور ان سے درخواست کی کہ اب آپ جامعۃ الرشید سنبھالنے کی تیاری شروع کریں۔ ڈاکٹر صاحب نے حسب سابق درخواست قبول فرمالی لیکن ہماری بدنصیبی کہ وہ رحلت فرما گئے۔ اسی طرح سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل محمود سے بھی میں نے تین دن دینے کی درخواست کی۔ وہ تین دن تو نہیں دے سکے لیکن ایک دن انہوں نے ہمارے ساتھ گزارا۔ میں اور میری شوریٰ نے ان کی زندگی کے تجربات سے بھی بہت کچھ سیکھا۔ زندگی کے مختلف شعبوں میں اپنی ساری عمر گزار دینے والی معاشرے کی ان ممتاز شخصیات کو میں یہاں اسی لئے مدعو کرتا ہوں کہ میرے رفقاء کی سوچ میں وسعت پیدا ہو اور وہ بہت بڑی سطح پر سوچ سکیں۔ الحمدللہ بتدریج بہت کچھ ہوا ہے اور بہت کچھ ہونا باقی ہے۔ جو باقی ہے وہ بھی بتدریج ہی ہوگا کیونکہ اس جمود کے پیچھے پوری ایک صدی کھڑی ہے۔ جو جمود ایک صدی میں قائم ہوا ہو وہ ٹوٹنے میں وقت تو لے گا لیکن انشاءاللہ العزیز ہم اسے توڑ کر رہیں گے”
درسِ نظامی پر مولانا ولی خان کے نام لکھے گئے میرے فروری 2007ء کے ایک طویل تنقیدی خط کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا
“آپ کے اس خط کی کاپی میں نے کہیں سے حاصل کر لی تھی اور انہی دنوں اپنی شوریٰ کو بٹھا کر وہ پورا خط پڑھ کر سنایا تھا جس میں ہم پر بھی سخت تنقید تھی، میں نے شوریٰ سے کہا، انہوں نے لکھا بہت سخت ہے لیکن جو باتیں ہمارے متعلق کہی ہیں یہ ہیں سچ۔ ابھی کچھ ہی عرصہ قبل مجھے آپ کی فیس بک پر لکھی ایک تحریر بہت زبردست لگی تو میں نے اسے ایک ایسے وٹس ایپ گروپ میں ڈالدیا جس میں مولانا فضل الرحمن اور سید سلمان ندوی جیسے پاک و ہند کے ممتاز ترین علماء شریک ہیں۔ وہ تحریر وہاں پوسٹ کرنے پر بعض علماء کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا، مجھے اندازہ نہیں تھا کہ یہ لوگ آپ سے اتنی “محبت” (مسکراتے ہوئے) کرتے ہیں۔ لیکن میں نے اس کی پروا نہیں کی۔ اسی لئے میں نے آپ کو آج یہاں جامعہ میں مدعو کیا ہے کہ مجھے پروا نہیں اور میں آپ سے پوری سنجیدگی کے ساتھ کہہ رہا ہوں کہ جامعۃ الرشید ہمارا نہیں آپ کا ہے۔ ہم نے اس ادارے کو اسقدر وسیع خطوط پر استوار کیا ہے کہ ندوۃ العلماء کے بزرگوں نے اس کا نظام دیکھ کر فرمایا، آپ نے علی گڑھ، دیوبند اور ندوۃ العلماء کو ایک چھت تلے جمع کر ڈالا ہے جو ناقابل یقین ہے۔ یہاں کسی بھی مسلک سے تعلق رکھنے والا شخص داخلہ لے سکتا ہے اور پڑھ سکتا ہے۔ اس کے انتظامی ڈھانچے کا اندازہ اس سے لگا لیں کہ میں شوریٰ کو لکھ کر دے چکا ہوں کہ اس ادارے سے میرے خاندان کا کوئی تعلق ہے اور نہ ہی میرا خاندان اس پر کسی قسم کا حق رکھتا ہے۔ اگر میں نہ رہوں تو میرے بعد یہ میرے بیٹے کو نہیں ملے گا بلکہ یہ ادارہ اس کی شوریٰ کے پاس ہی رہے گا۔ اپنے بیٹے کو میں نے جامعہ سے اس قدر لاتعلق رکھا ہے کہ یہاں کے طلبہ و اساتذہ کی اکثریت شائد اسے جانتی بھی نہیں جبکہ میرے والد رحمہ اللہ جب یہاں ہوتے اور میں شام کو ادارے کے لان میں اساتذہ کے ساتھ بیٹھتا تو وہ اس مجلس میں بھی نہ آتے کہ کسی کو کوئی غلط تاثر نہ مل جائے۔ اس کے تمام شعبوں کے سربراہ مکمل خود مختار ہیں۔ مالیات کا نظام اسقدر شفافیت سے ترتیب دیا ہے کہ جس کے پاس رقم پڑی ہے اس کے پاس خرچ کرنے کا اختیار نہیں اور جس کے پاس خرچ کرنے کا اختیار ہے اس کے پاس رقم نہیں رکھی۔ خود میرے پاس نہ تو وہ رقم رکھی ہے اور نہ ہی میرے پاس اسے خرچ کرنے کا اختیار ہے۔ میرے زبانی یا تحریری حکم پر ایک روپیہ بھی ریلیز نہیں ہو سکتا۔
پچیس برس کی کشمکش (آخری حصہ)
ان کے لہجے میں اس صحرائی مسافر جیسا کرب تھا جسے تپتی دھوپ اور ناپید پانی سے زیادہ سفر کی تنہائی سے شکوہ رہا ہو۔ یا اس رہبر جیسی اداسی جس کے ساتھی اس کے ساتھ چل تو رہے ہوں لیکن منزل سے متعلق اس جیسا یقینِ کامل نہ رکھتے ہوں اور اسے بار بار انہیں سمجھانا پڑتا ہو کہ سراب کے سات سمندر پار اس نخلستان کی کھجوریں پک کر تیار ہو چکیں اور ٹھنڈے پانی کے چشمے ہماری راہ تک رہے ہیں، بس تھوڑا سا سفر اور ! وہ ایک بار پھر بولے تو یوں لگا جیسے پردیس میں اچانک مل جانے والے کسی ہم زبان سے بات کر رہے ہوں
“میری حکمت عملی میں ملک کے قانون اور اس کے اداروں کی بڑی اہمیت ہے۔ میں قانون کے خلاف نہیں جاتا۔ ہر قدم اٹھانے سے پہلے یہ معلوم کرتا ہوں کہ اس حوالے سے قانونی تقاضے کیا ہیں۔ جب میں نے لاہور میں جامعۃ الرشید کا کیمپس قائم کرنے کا فیصلہ کیا تو وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے ملا۔ ان کے سٹاف نے ہمیں 20 منٹ دلوائے۔ میں نے گزارش کی کہ 20 منٹ کی تو ہماری ڈاکومنٹری ہے۔ اس کے بعد ہمیں بات بھی کرنی ہے۔ انہوں نے وقت میں اضافہ کردیا۔ ہم نے پروجیکٹر پر کراچی میں اپنا اب تک کا کام اور مستقبل کے منصوبے پیش کئے جو شہباز شریف نے پوری توجہ سے دیکھے اور سنے۔ جب وہ دیکھ چکے تو میں نے ان سے کہا، لاہور آتے ہوئے میں نے جہاز کی کھڑکی سے لاہور شہر دیکھا، یہ شہر بہت ہی خوبصورت اور بہت ہی شاندار ہے لیکن اس میں ایک چیز کی کمی بہت شدت سے محسوس ہوئی۔ شہباز شریف نے چونک کر پوچھا “وہ کیا ؟” میں کہا، مجھے لاہور میں جامعۃ الرشید کہیں نظر نہیں آیا، یہاں جامعۃ الرشید کی کمی ہے۔ شہباز شریف نے کہا، ہم لاہور میں جامعۃ الرشید کے قیام میں مکمل تعاون کے لئے تیار ہیں، یہ ایک شاندار آئیڈیا ہے اور یقینا لاہور میں جامعۃ الرشید کی کمی نہیں ہونی چاہئے۔ بتایئے ہم سے آپ کو کیا چاہئے ؟ ہم آپ کو زمین دے سکتے ہیں۔ میں نے کہا، زمین چاہئے نہ ہی پیسہ، زمین ہمارے پاس 20 ایکڑ موجود ہے اور وسائل بھی ہیں، آپ سے صرف اجازت مطلوب ہے کیونکہ ہم حکومتی اجازت کے بغیر پروجیکٹ شروع نہیں کرتے۔ شہباز شریف نے ہمیں اسی وقت اجازت دیدی اور آج الحمدللہ لاہور میں جامعۃ الرشید کے منصوبے پر کام جاری ہے۔ میں محض اجازت کے لئے شہباز شریف کی سطح تک اس لئے گیا تاکہ وہ خود ہمیں دیکھ اور سن لیں، کل کو کوئی انہیں کسی غلط فہمی میں مبتلا کرنے کی کوشش نہ کر سکے۔ اب ایک اور پہلو بھی دیکھیں، بعض لوگ یا تو ہمیں ٹی ٹی پی کی طرف منسوب کرتے ہیں یا ٹی ٹی پی کو ہماری طرف منسوب کر دیتے ہیں جبکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ ٹی ٹی پی مجھ پر چار بار حملے کی کوشش کر چکی ہے۔ خاص طور پر حکیم اللہ محسود کو تو مجھ سے خاص عناد رہا”
مجھے 2010ء کا ایک واقعہ یاد آیا تو سوچا تصدیق کر لوں۔ میں نے پوچھا
“کیا یہ درست ہے کہ 2010ء میں خود کش بمبار آپ کے آفس تک پہنچ گیا تھا اور وہ آپ کے سامنے بیٹھا کسی بھی لمحے پھٹنے کو تیار تھا ؟”
مسکراتے ہوئے بولے
“جی بالکل ! یہ واقعہ ہوا تھا اور خود کش بمبار کو ہمارے ایک استاذ نے ہی یہاں اپنے گھر پر قیام کروایا تھا اور اسی کی مدد سے میرے دفتر تک پہنچنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔ ٹی ٹی پی ہماری جان کی دشمن بنی پھر رہی تھی اور لوگ اسے منسوب ہی ہم سے کر رہے تھے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جب ضرب عضب شروع ہوا تو میں نے ایک اعلیٰ فوجی افسر کے ذریعے جنرل راحیل شریف کو یہ پرپوزل بھیجا کہ آپ ہمیں وزیرستان میں جامعۃ الرشید کے قیام کی اجازت دیدیں، ایک بار یہ ادارہ قائم ہوجائے تو یہ ایسا ادارہ ہے جو علی گڑھ اور دیوبند یعنی دین اور دنیا کا امتزاج ہے۔ ملا اور مسٹر کے بچے جب ایک چھت تلے تعلیم کے لئے جمع ہوں گے تو اس علاقے کا سارا فساد ختم ہوجائے گا۔ جنرل راحیل شریف نے اصولی طور پر اس منصوبے سے اتفاق کیا لیکن بات آگے نہیں بڑھ سکی اور وہ ریٹائر ہوگئے۔ اگر یہ ہوجائے تو میں یقین سے کہتا ہوں کہ اس علاقے میں علم کی زبردست روشنی پھیلے گی اور تاریکیاں چھٹ جائیں گی کیونکہ ہمارا تعلیمی نظام بہت مضبوط ہے۔ ہم ایسے علماء تیار کر رہے ہیں جن کی دنیا کی تین زبانوں پر مکمل گرفت ہو۔ اردو، عربی اور انگریزی کو ہم یکساں اہمیت دے رہے ہیں، اپنے علماء کو ماڈرن ایجوکیشن سے آراستہ کر رہے ہیں، ہمارے مفتیانِ کرام کے لئے جو نصاب ہم نے تشکیل دیا ہے اس میں ملکی و بین الاقوامی قوانین کورس کا حصہ ہیں۔ ہم صرف ڈومیسٹک ہی نہیں کارپوریٹ لاء بھی پڑھا رہے ہیں۔ ہم نے صرف اس چیز پر توجہ نہیں دی کہ آج کا عالم دین ماڈرن ایجوکیشن سے آراستہ ہو تاکہ آج کے چیلنجز کو سمجھ سکے اور ان کا مقابلہ کر سکے بلکہ ہم نے پروفیشلز کو بھی دینی تعلیم سے آراستہ کرنے کا انتظام کر رکھا ہے۔ یہاں دورہ حدیث اور ایم بی اے کی تعلیم شانہ بشانہ چل رہی ہے۔ ہم نے پروفیشنلز کے لئے بھی علومِ دینیہ کا چار سالہ نصاب تشکیل دیا ہے کہ اگر کوئی وکیل، ڈاکٹر، انجینئر یا بزنس ایڈمنسٹریشن کا ماہر دینی تعلیم حاصل کرنا چاہے تو کرسکے۔ ہمارے نیو کیمپس کی بیسمنٹ میں ہم طلبہ کے لئے تمام انڈور گیمز کا انتظام کر رہے ہیں جبکہ اس کی وسیع و عریض چھت پر آؤٹ ڈور گیمز کا حیرت انگیز آئڈیا سامنے لا رہے ہیں، طلبہ کے لئے سویمنگ پولز بنا رہے ہیں، ایک سویمنگ پول اس وقت بھی ہے لیکن یہ ناکافی ہے، اب ہم بہت بڑا بنا رہے ہیں۔ اس نیو کیمپس میں ہم ایک ایسا عظیم الشان آڈیٹوریم تعمیر کرنے جا رہے ہیں جس میں 16 ہزار افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہوگی اور یہ کسی بھی ورلڈ کلاس آڈیٹوریم کی طرح ہر سہولت سے آراستہ ہوگا”
اس نشست کے بعد وہ باہر لان میں بیٹھے جامعہ کے اساتذہ سے ملوانے لے گئے جو بڑی گرم جوشی اور خندہ پیشانی سے ملے۔ مفتی صاحب نے محدود نشست کے لئے استعمال ہونے والے ساؤنڈ سسٹم پر اساتذہ سے فرمایا۔
“مولانا رعایت اللہ فاروقی میری دعوت پر جامعہ آئے ہیں۔ ان کی اور ہماری فکر میں 80 فیصد مطابقت پائی جاتی ہے۔ جہاں تک باقی 20 فیصد کا تعلق ہے تو یہ بات دنیا بھر میں بزنس ایڈمنسٹریشن کے اسباق میں پڑھائی جاتی ہے کہ دو افراد میں زیادہ سے زیادہ 80 فیصد ہی ذہنی ہم آہنگی ہو سکتی ہے۔ ایک بھرپور ہم آہنگی رکھنے والا بھی 20 فیصد آپ سے غیر متفق ہی ہوتا ہے۔ جب ہماری اور ان کی سوچ میں 80 فیصد مطابقت پائی جاتی ہے تو پھر ہمیں ذہنی ہی نہیں عملی طور پر بھی ایک پیج پر ہونا چاہئے۔ ہمارے میل جول میں رکاوٹیں نہیں ہونی چاہئیں اور ہمیں ایک دوسرے سے استفادہ کرنا چاہئے”
ممکن ہے میرا اندازہ غلط ہو لیکن ان کے لہجے اور باڈی لینگویج سے میں نے یہ تاثر اخذ کیا جیسے وہ اپنے رفقاء کو ایک لاؤڈ اینڈ کلئیر میسج دے رہے ہوں۔ اسی نشست میں میرے سپر فیوریٹ محترم مفتی محمد صاحب بھی موجود تھے۔ ان سے بھی بیس پچیس برس کا تعلق ہے لیکن اس تعلق کی خاص بات یہ ہے کہ ان سے میرے تعلق کی نوعیت ہمیشہ ہی بہت احترام والی رہی۔ ان سے شفقت اور محبت کے سوا کچھ نہ ملا اور میرا دل ہمیشہ ان کے بے پناہ احترام سے لبالب رہا۔ مفتی صاحب کے حکم پر مجھے جامعہ کے مختلف شعبوں کا دورہ بھی کرایا گیا اور وہاں ہونے والی سرگرمیوں کی تفصیلات سے آگہی فراہم کی گئی۔ یہ سب میرے لئے نہایت حیران کن تھا۔ میں کراچی کے علماء سے یہ سنتا آیا تھا کہ جامعۃ الرشید بہت ماڈرن خطوط پر کام کر رہا ہے لیکن مولوی جب “ماڈرن” لفظ استعمال کرتا ہے تو اس کا کل مطلب یہی دیکھنے میں آتا رہا ہے کہ مولوی کمپیوٹر بھی استعمال کر لیتا ہے۔ یہ بات بھی سن رکھی تھی کہ یہاں باقاعدہ جدید تعلیم دی جاتی ہے مگر ماضی کے کچھ ناکام تجربات ذہن میں تھے سو خیال یہی تھا کہ یہ بھی انہی میں ایک نیا اضافہ ہونے جا رہا ہوگا۔ بطور مثال حب ریور روڈ پر 70 کی دہائی میں قائم ہونے والا “تبلیغی کالج” ہی دیکھا جا سکتا ہے جو شائد اس ملک میں مولوی کو ماڈرن ایجوکیشن دینے کی پہلی کوشش تھی اور یہ بری طرح ناکام ہوئی تھی۔ مغرب کی نماز کے بعد مہمان خانے میں چوتھی نشست ہوئی جس میں مفتی صاحب نے جامعہ کے ایک سابق طالب علم کے حوالے سے بتایا کہ ان کا اساتذہ سے رویہ خراب ہونا شروع ہوا تو ہمیں تشویش ہوئی کہ اتنے قابل اور شائستہ بچے کے اخلاق میں یہ تبدیلی کہاں سے آ رہی ہے۔ کچھ دن بعد اساتذہ نے بتایا کہ یہ رعایت اللہ فاروقی کی صحبت اختیار کر چکا ہے، ان کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے سے اس بچے کے اخلاق بگڑے ہیں۔ میں نے مفتی صاحب سے اس بچے کا نام پوچھا، جب انہوں نے بتایا تو میری ہنسی چھوٹ گئی کیونکہ اس بچے کی مجھ سے صرف ایک ملاقات ہوئی ہے وہ بھی پندرہ بیس طلبہ کے گروپ کے ساتھ اور سب سے اہم بات یہ کہ میں خود اسے بداخلاقی ہی کے سبب بلاک بھی کئے بیٹھا ہوں۔ میں نے مفتی صاحب کو اس بات سے آگاہ کیا تو وہ بہت حیران ہوئے۔ اسی طرح میرے متعلق انہیں ایک اور بات یہ بتائی گئی تھی کہ میں خدا نخواستہ غامدی مکتب فکر سے وابستگی اختیار کر چکا ہوں۔ اس حوالے سے مفتی صاحب نے بتایا کہ جب فیس بک پر آپ کی جانب سے غامدی مکتب فکر کے خلاف سخت تحریریں آنی شروع ہوئیں تو میں نے ان احباب سے پوچھا
“آپ لوگ تو کہتے تھے کہ وہ غامدی مکتب فکر کے آدمی ہیں ؟”
تو کسی کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔ ان دونوں واقعات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جب باہمی رابطے نہ ہوں تو عجیب عجیب غلط فہمیاں جنم لے لیتی ہیں۔ عشاء کے قریب ہم رخصت ہونے لگے تو مفتی صاحب مفتی ابولبابہ کی کلاس میں ان سے ملانے لے گئے۔ چونکہ کلاس جاری تھی اس لئے صرف مصافحہ ہوا اور مفتی صاحب نے ان سے اتنا فرمایا
“فاروقی صاحب کو آج میں نے مدعو کیا تھا اور ان کی محبت ہے کہ یہ میری دعوت پر تشریف لائے۔”
وہ گاڑی تک ہمیں چھوڑنے آئے اور ہم بہت ہی شاندار یادیں لے کر وہاں رخصت ہوئے۔
جہاں تک شامی مہاجرین کا تعلق ہے تو اس حوالے سے میرا موقف اب بھی وہی ہے جو اس ملاقات سے قبل تھا۔ میری یہ سوچی سمجھی رائے ہے کہ دیوبندی جس قدر جلد ممکن ہو عسکریت سے مکمل طور پر باہر آئیں اور یہ رائے آج قائم نہیں ہوئی بلکہ اسی جامعۃ الرشید میں 2009ء میں خاص اس مسئلے کے حوالے سے میں مفتی محمد صاحب سے ملا تھا اور ان سے بہت زور دے کر یہ درخواست کی تھی کہ دیوبندی مکتب فکر جتنا جلد عسکریت سے نکلے گا اتنی ہی بچت ہوگی، اگر اس معاملے میں تاخیر کی گئی تو دو چیزوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پہلی یہ کہ دیوبندیت کو ملک میں فساد کا تنہاء ذمہ دار قرار دیدیا جائے گا اور رائے عامہ اس کی تائید کرے گی۔ اگر ہم غور کریں تو ابھی دس بارہ روز قبل ہی یہ کوشش فیس بک پر ہو چکی جو ناکام ہوئی۔ اور دوسری یہ کہ ایک زبردست فوجی آپریشن کے ذریعے عسکریت کو کچلا جائے گا۔ پورے ملک میں چن چن کر دیوبندی مارے جائیں گے اور یہ غلط نہیں ہوگا کیونکہ عسکریت کے کلیدی ذمہ دار ہم ہی ہیں، ایک بار نوبت آپریشن کی آ گئی تو پھر اس کی حمایت ہی واحد آپشن ہوگا۔ لھذا وقت تیزی سے ہاتھ سے نکل رہا ہے یہ نوبت آنے سے قبل اس مسئلے کو پرامن اور علمی طور پر حل کرنے کی راہ ڈھونڈنی چاہئے۔ مفتی محمد صاحب کو یاد ہوگا کہ اس حوالے سے میں نے ایک تجویز بھی دی تھی اور چونکہ یہ ٹی ٹی پی کو چیلنج کرنے والی تجویز تھی جس میں جان سے ہاتھ دھونے کا سو فیصد نہیں تو 90 فیصد تو پکا امکان تھا سو میں نے پیشکش کی تھی میں اپنی جان داؤ پر لگانے کو تیار ہوں بس آپ اپنے حصے کا کام کرکے دیدیں۔ افسوس کہ اس معاملے پر پیش رفت نہ ہو سکی اور نوبت اسی فوجی آپریشن کی آئی جو اس وقت بھی جاری ہے اور جسے میری بھی مکمل حمایت حاصل ہے۔ اگر مفتی محمد صاحب نے اس ملاقات کا ذکر مفتی عبدالرحیم صاحب سے نہیں کیا تو میری درخواست ہے کہ وہ ان سے یہ تفصیلات معلوم کر لیں تاکہ وہ جان سکیں کہ عسکریت سے مکمل علیحدگی کے حوالے سے میرے موقف میں ایک تسلسل ہے اور اس حوالے سے میں غیر مبہم اور دو ٹوک موقف رکھتا ہوں۔
مفتی عبدالرحیم اور ان کی ٹیم ایک شاندار تعلیمی انقلاب کا امکان پیدا کرچکی ہے اس ٹیم کو تعلیمی میدان کے سوا کسی بھی دوسرے میدان میں اپنی توانائی صرف کرنے سے گریز کرنا چاہئے خواہ وہ میدان مہاجرین کی دیکھ بھال کا ہی کیوں نہ ہو۔ مہاجرین کے کیمپ ہی عسکریت پسندوں کے اصل گڑھ ہوتے ہیں، یہیں سے عسکریت کے نظر نہ آنے والے ہیڈ کوارٹر کام کرتے ہیں۔ اس پس منظر کے سبب اگر ہمارا کوئی فرد یا تعلیمی ادارہ عسکری مہاجرین کے کیمپوں میں جائے گا تو یہ نئے خطرات جنم نہ بھی دے تو اس فرد اور ادارے کو مشکوک ضرور کرے گا اور جب ادارہ جامعۃ الرشید جیسا ہو جس کا افغان اور کشمیری مجاہدین سے مضبوط ریلیشن رہا ہو تو یہ شکوک مزید بڑھ جاتے ہیں۔ سو جامعۃ الرشید کے اس وزٹ کے بعد میری اس رائے میں مزید پختگی آگئی ہے کہ جامعۃ الرشید کی تعلیم کے علاوہ کوئی سرگرمی نہیں ہونی چاہئے، پورا عالم اسلام صدیوں سے علمی مہاجرت کی زندگی گزار رہا ہے، جامعۃ الرشید کو عسکری مہاجرین کی نہیں بلکہ علمی مہاجرین کی ہی فکر کرنی چاہئے جو پاکستان میں ہی کروڑوں کی تعداد میں بکھرے پڑے ہیں۔ یہاں یہ وضاحت بلکہ صراحت ضروری ہے کہ عسکریت سے دستبرداری کا مطلب مظلوموں کی حمایت سے دستبرداری ہرگز نہیں۔ ہمیں افغان طالبان، کشمیری حریت پسندوں اور فلسطین کے مظلوموں کی بھر پور حمایت جاری رکھنی ہے لیکن یہ سیاسی و فکری میدان میں ہوگی، عسکری میدان میں ہرگز نہیں۔ ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ عسکریت کا راستہ تباہی کا راستہ ہے۔ ہمیں خود کو بار بار یاد دلانا ہوگا کہ جب 1857ء کی جنگ آزادی کی صورت عسکریت ناکام ہوئی تو اس کے نتیجے میں ہمارے بڑوں نے دارالعلوم دیوبند کی صورت تعلیمی اور فکری تبدیلی کی راہ اختیار کی اور جب دیوبند علماء کی پہلی نسل تیار کر چکا تو برٹش سامراج کے خلاف سیاسی مزاحمت کی راہ ہی اختیار کی گئی اور وہی راہ کامیاب ثابت ہوئی۔ میں اس رائے کو درست تسلیم نہیں کرتا کہ سیاسی راستے سے تبدیلی رونما نہیں کی جا سکتی۔ اس راہ سے تبدیلی رونما کرنا عین ممکن ہے لیکن ہمیں جلد بازی اور انتقام کی حکمت عملی سے بچنا ہوگا۔ ہمارے سامنے دو مثالیں ہیں۔ ایک مصر کی جو جلد بازی کے سبب ناکام ہوئی اور دوسری ترکی کی جو حکمت اور دانائی سے بھرپور تھی سو یہ اس شاندار کامیابی سے آگے بڑھ رہی ہے کہ ایک زبردست بغاوت بھی اس کی راہ نہ روک سکی۔ دنیا پر لبرلزم کا کنٹرول ہے، لبرلزم کے مائی باپ کبھی نہیں چاہیں گے کہ مذہبی ریاست کا تصور کامیاب ہو۔ وہ اسے ناکام کرنے کے نت نئے طریقے ڈھونڈیں گے۔ اس کے تدارک کے لئے ہمارے پاس وہ اعلیٰ پائے کی سیاسی دانائی ہونی چاہئے جو ان سازشوں کو ناکام کر سکے۔ اگر ہم دانائی کا مظاہرہ نہیں کرتے اور وہ ہمارے خلاف کامیاب ہوجاتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ سیاسی راہ سے تبدیلی ممکن نہیں بلکہ یہ ہوگا کہ ہم نالائق ہیں۔
Comments
Post a Comment