کچن کے گندے برتن

 رزق میں برکت اور کچن کے گندے برتن :

۔"" "" "" "" "" "" "" "" "" "" "" "" ""

(ایک حیرت انگیز سبق آموز واقعہ)


ایک مفتی صاحب کا بیان ہے .. 

کچھ ماہ قبل کی بات ہے ایک محبت و عقیدت کے رشتے میں بندھے ایک صاحب ملنے آئے اور بولے، 

"مفتی صاحب! میرا کاروبار بہت عمدہ تھا۔ میں لاکھوں کماتا تھا۔ گاڑی تھی، بہترین زندگی تھی۔ آج بھی وہی کاروبار ہے، مگر گاڑی نہیں، وہ خوشحالی نہیں، دن بدن قرض کے بوجھ تلے دب گیا۔ چونکہ رزق کی فراوانی تھی اور اب مشکل سے گزارا ہوتا ہے ۔۔۔ سنا ہے آپ روحانی علاج کرتے ہیں، چیک کیجیئے کوئی جادو ٹونہ و بندش و نظر بد نا ہو۔کاٹ کیجیئے ، تعویذ دیجیئے، وظیفہ دیجیئے تاکہ پھر سے وہی خوشحالی پر مبنی حالات لوٹ آئیں۔ میں بہت پریشان ہوں۔"


یہ کہتے ہوئے صاحب رو پڑے۔ میں نے ان سے کہا :

" پریشان نہ ہوں، میں آپ کے گھر کے برتنوں پر دم کروں گا ۔ خوشحالی لوٹ آئے گی۔"


انہوں نے کہا کیا : "مجھے گھر کے برتن لانے پڑیں گے؟

یا آپ گھر آئیں گے؟"

میں نے کہا: "نہ میں گھر آؤں گا نہ آپ کو برتن میرے پاس لانے پڑیں گے۔ بس کرنا یہ ہے دھونے والے برتن جب کچن میں جمع کئے ہوں تو ان آلودہ برتنوں کی تصاویر تین دن کی روز لیں اور چوتھے روز وہ تصاویر موبائل میں لے آئیں۔ میں ان پر دم کردوں گا۔ سب ٹھیک ہو جائے گا ۔"


تین دن بعد جب تصاویر سامنے آئیں تو برتن دیکھے تو کسی برتن میں کچھ سالن تھا کسی میں کچھ ۔یعنی (رزق) کھانا ضائع ہو رہا تھا اور دھل کر گندے نالے میں جا رہا تھا۔

میں نے پوچھا : "یہ برتن ہیں، ان میں کھانا ہے، جیسے سالن وغیرہ اس کا کیا کرتے ہیں؟"

وہ صاحب بولے: "ظاہر ہے کہ دھل کر یہ سب نالی میں جائے گا." میں نے ان سے کہا کہ میں دم نہیں کروں گا۔انہوں نے وجہ پوچھی تو قصہ مختصر..


میں نے کہا: آج کے بعد بچا ہوا کھانا اس طرح برتن دھل کر گندے نالے، یا کوڑے میں نہیں پھیکنا، بلکہ برتن اچھی طرح کھانا کھاتے ہوئے صاف کرنے ہیں، اتنا ڈالیں جتنا کھانا ہے۔

اور بچ جانے والا کھانا کسی غریب کو یا چھت پر جانوروں پرندوں کے لئے رکھ چھوڑیں۔ قصہ مختصر رزق کی بے ادبی نہ ہو۔"

انہوں نے وعدہ کیا کہ آج کے بعد ایسا نہ ہو گا۔ جو جو رزق کی بے ادبی کی صورتیں آپ نے بیان کی ہیں آج کے بعد ان میں سے کوئی بھی نہیں ہو گی۔ 

میں نے ان کی تسلی کے لئے 21 دفعہ برتن پر سورۃ الفاتحہ پڑھ دی کہ نفسیاتی طور پر ان کو تسلی ہو کہ واقعی دم کیا ہے۔


کچھ دن بعد وہ ملنے آئے۔ مجھ سے گلے ملے اور رونا شروع کر دیا. ہاتھ چومے اور حد سے ذیادہ عقیدت کا اظہار کیا اور بولے : "مفتی صاحب! اب میرا کاروبار بہت بہتر ہو گیا۔ بہترین اور بڑے بڑے آرڈر دوبارہ ملنا شروع ہو گئے ۔ آپ کے دم نے تو کمال کر دیا۔" 

میں نے ان سے کہا : "حضور اکرم ﷺ کا فرمان ہے کہ رزق کی بے ادبی تنگ دستی لاتی ہے۔

آپ نے کاروبار بیان کیا۔ اس میں کوئی شرعی خرابی نہ تھی۔

آپ نماز بھی پڑھتے ہیں، تو مجھے اس وقت آئیڈیا ہوا کہ کہیں رزق کی بے ادبی کے شکار نہ ہوں۔ آپ نے رزق کا ادب شروع کیا تو وہ واپس لوٹ آیا۔ بس اتنی سی بات تھی۔"


اس نے عزم مصمم کیا کہ ان شاء اللّٰہ مرتے دم تک رزق کے ایک ذرے کو ضائع نہیں ہونے دوں گا اور اس کے ادب و تعظیم میں کوئی کسر نہ چھوڑوں گا۔ میں نے کہا اگر تم نے واقعی ایسا کیا تو واپس گاڑی بھی آئے گی اور بینک بیلنس بھی۔


اللّٰہ پاک ہمیں رزق کا ادب کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین ۔

Comments