بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
ہوش ربا مہنگائی کے بوجھ تلے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*****************
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔افتخاراحمد بستوی
اللہ کے بندوں کو آپ جتنا آرام پہنچائیں گے اللہ رب العزت اتناہی بل کہ اس سے کہیں زیادہ آپ کو آرام پہنچائیں گے ۔~
حالی مرحوم مسدس حالی میں لکھتے ہیں:
خدا رحم کرتا نہیں اس بشر پر
نہ ہو درد کی چوٹ جس کے جگر پر
کرو مہربانی تم اہل زمیں پر
خدا مہرباں ہوگا عرشِ بریں پر
لیکن یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ جو خدا کے بندوں کو تنگ کرتا ہے ،اس پر ظلم وستم ڈھاتا ہے اس پر بھی خدا مہربان ہے ۔بل کہ ظاہر نظر میں ایسے بندوں پر عنایت خداوندی اور خدا کی مہربانی کچھ زیادہ ہی دکھائی دیتی ہے، تو اس سوال کا جواب یہ ہے کہ جس کو عنایت خداوندی سمجھا جارہاہے وہ درحقیقت اللہ رب العزت کی طرف سے ڈھیل ہوتی ہے ،ایسے بندوں کو سمجھنے اور سدھرنے کا موقع دیا جاتا ہے ،پھر جب وہ موقع گزر جاتا ہے اور ڈھیل کا وقت ختم ہو جاتا ہے تو ان کی گرفت ہوتی ہے اور ایسی شدید گرفت ہوتی ہے کہ پھر دوبارہ چھوٹ نہیں دی جاتی ۔
اللہ رب العزت کا یہ ضابطہ عام ہے اس میں کسی علاقے کی ،کسی وقت و حالت کی ،اسی طرح کسی بڑی و چھوٹی شخصیت کی قید نہیں۔
اللہ رب العزت ظالموں کی پکڑ فرماتے ہیں چاہے اس میں دیر ہی کیوں نہ لگے۔کیوں کہ دیر بھی اصلاح ودرستگی کے مقصد سے ہوتی ہے۔
آج حالات بہت زیادہ ناگفتہ بہ ہوتے جارہے ہیں اللہ کی بنائی زمین میں اللہ کے بندوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں۔
معیشت کا حال ابتر ہے
سنٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکانومی (سی ایم آئی ای) کے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، دسمبر میں بھارت میں روزگار کا ڈیٹا، (data)جس میں لاک ڈاؤن کے ختم کرنے کے بعد قدرے بہتری آئی تھی، ابتر ہوگئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق ، ملک میں بے روزگاری کی شرح نومبر میں 6.5 فیصد تھی جب کہ یہ بڑھ کر گزشتہ دسمبر میں 9.1 فیصد ہوگئی۔ اعدادوشمار سے پتہ چلتا ہے کہ معیشت پر دباؤ ہے ہے اور معمول کی راہ طویل ہوگی۔
اس عالم میں غیبوں اور بے دست و پا لوگوں کی معاشی خوش حالی کی اسکیمیں بنانے کے بجائے ان کے درمیان نفرت کی دیواریں کھڑی کرنا کس قدر بے حسی اور سنگ دلی کی بات ہے۔
سی ایم آئی ای کے ایم ڈی اور سی ای او مہیش ویاس کے مطابق ، جون میں لاک ڈاؤن کے بعد بھارت کی بازیابی کے آغاز کے بعد دسمبر میں بیروزگاری کی سب سے زیادہ شرح درج ہوئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ بے روزگاری میں اضافہ اعلی افراط زر کے ساتھ ہوتا ہے ، جو حالیہ مہینوں میں 7 فیصد کے آس پاس ہے اور اس نے صورتحال کو مزید خراب کردیا ہے۔
آپ جائزہ لیں تو پتہ چلے گا کہ
آئے دن ڈیزل اور پٹرول کے داموں میں اضافے 108 روپیے سے لے کے 120 فی لیٹر کے حساب سے پورے بھارت میں مختلف جگہوں پر ،اس کی فروخت نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے، لوگوں پر رحم وکرم کا معاملہ کرنے کے بجائے ان کو معاشی ظلم کی چکی میں پیستے چلے جارہے ہیں
مہیش ویاس نے یہ خدشات بھی بڑی قوت کے ساتھ اٹھائے کہ بے روزگاری میں تیزی سے اضافے سے بحالی کے عمل سے متعلق دور رس پریشانیوں کو مزید تقویت ملتی رہے گی۔ماہرین کے مطابق ، دسمبر میں بے روزگاری میں اضافہ مزدوروں کی شرکت کی شرح (ایل پی آر) کی جزوی بحالی کا نتیجہ ہے۔ نومبر میں ایل پی آر کم ہوکر 40 فیصد رہ گیا جو پچھلے دو ماہ میں 40.7 فیصد تھا۔
کھانے کے تیل کا بھاؤ آسمان کو چھو رہا ہے،دال چاول سبزی تمام کھانے پینے کی اشیاء مہنگی ہوتی چلی جارہی ہیں ذرائع نقل و حمل میں روز افزوں گرانی کا گراف بڑھتا جارہا ہے۔
کسان دس ماہ کے طویل عرصے سے سڑکوں پر سراپا احتجاج بناہوا ہے ،لیکن پورا سسٹم گنگا، بہرا اور اندھا بنا ہوا ظلم کو بڑھاوا دے رہا ہے۔
جان بوجھ کر غریب کسانوں پر دوڑتی گاڑی چڑھادی جارہی ہے اور ظالم کھلے بندوں اس طرح گھومتا پھر رہا ہے جیسے کہ
دامن پہ کہیں چھینٹ، نہ خنجر پہ کہیں داغ
تم قتل کروہو کہ کرامات کروہو۔
کلیم عاجز عظیم آبادی
دن دن بھر غریب کسان لائن میں کھڑا کھاد کی وصول یابی کو یقینی بنانا چاہتا ہے اور حکمراں جماعت کے پاس پوری مقداد میں کھاد ہے ہی نہیں کہ مکمل سپلائی کو یقینی بنایا جاسکے۔
چار وناچار زہر خورانی اور خودکشی کے حد درجے ناخوشگوار واقعات وحادثات پیش آجاتے ہیں
ان تمام ناگفتہ بہ پریشانیوں کو اقلیتوں سے زیادہ اکثریتی طبقہ جھیل رہا ہے لیکن انھیں مذہبی جنون کے پھیلاؤ کا فری ویکسین دے کر، انھیں بالکل سن کردیا گیا ہے، جو غریب عوام اور خانماں برباد خاندان 70 روپیے لیٹر پٹرول فروخت ہونے پر سراپا احتجاج بنے تھے وہی 117 روپیے فی لیٹر پٹرول مسکراتے ہوئے بھروا رہے ہیں۔
یہ کون سا ویکسین ہے جو اتنا موثر ہے کہ لوگ اپنا دکھ درد سب بھول کر زندگی گزار رہے ہیں؟
یہ ویکسین وہی ہے جو کبھی اخلاق و جنید سے ان کے جینے کا حق چھین لیتی ہے، تو کبھی بابری مسجد کی ساری دلیلیں مسجد کے حق میں ہوتے ہوئے بھی رام مندر کا فیصلہ کروالیتی ہے، یہی وہ ویکسین ہے جو تری پورہ میں لگائی گئی ہے تو وہاں بیسیوں مسجدوں کو جلایا یا نقصان پہنچایا جا چکا ہے۔
اور ایک ہی اقلیتی فرقے کو سوچے سمجھے منصوبے کے مطابق نشانہ بنایا جارہاہے۔
لوگ روزگار مانگنا بھول گئے ہیں، لیکن اپنا جنون یاد ہے
آٹھ ماہ سے 4 لاکھ خواتین کو ان کی تنخواہیں نہیں ملی ہیں جب کہ ان کی تنخواہیں بھی صرف 15 سو روپیے ماہانہ ہیں ۔
ان ظلم وستم کے حالات میں مالک کل جہاں نے پورے غلبہ وقوت کے باوجود صبر و حلم کا مظاہرہ کیا ہوا ہے
اس کو معلوم ہے کہ غریبوں کی روزی روٹی پر لات مارا جارہا ہے اور طرح طرح کے بہانے تراشے جارہے ہیں
چناں چہ ویاس نے کہا ہے کہ لیبر مارکیٹیں مزدوری میں 60 لاکھ اضافے کے لئے تیار نہیں ہیں ، جس کی وجہ سے وہ بڑے پیمانے پر بے روزگار ہوگئے ہیں۔
[ مزدور ،بے بس, روزانہ کھانےکمانے والے بے روزگاری اور ہوش ربا مہنگائی کے بوجھ تلے ایسا دبے چلے جارہے ہیں کہ سانس لینا اور جینا حرام ہوگیا ہے۔
نہ اپنے کھانے کو کچھ ہے نہ بچوں کو کھلانے کے لیے کچھ۔
سوگئے بچےایک غریب ماں کے جلدی جلدی
ماں بولی تھی ،فرشتے آتے ہیں خواب میں روٹی لے کر
تو آیے ! ان سنگین حالات میں ان حکمران با صفا،دریا دلان خلوص کیش حضرات کا پاکیزہ کردار ادا کریں جو بھیس بدل بدل کر،شب دیجور میں ،حالات کا صحیح پتہ لگانے خود ہی نکل پڑتے اور اپنی پشت پر آٹے کی بوری لاد کر،منھ سے چولہا پھونک کر،اس بے یارو مددگار ماں کی زبان سے کہلوائے بغیر نہ رہتے کہ خلیفہ اور حکمراں تو تجھے ہونا چاہیے۔
جسے فضول سمجھ کر بجھا دیا تونے
وہی چراغ جلاؤ تو روشنی ہوگی
Comments
Post a Comment