دنیا سے یہی رخت عمل لے کے چلے ہیں
ہم حب نبی،حب خدا،لے کے چلے ہیں
ہےپیش نظر الفت صدیق وعمر بھی
ہم سیرت عثمان وعلی لے کے چلے ہیں
ہم راہ رہے ثور کی آغوش میں وہ کون
صدیق کو وہ خیر وری لے کے چلے ہیں
دنیا نے عدالت وہ کبھی پھر نہیں دیکھی
دستور عدالت جو علی لے کے چلے ہیں
واللہ بڑی شان ہے امت کے امیں کی
دنیا سے یہ جنت میں مکاں لے کے چلے ہیں
کہتے ہیں علی شیر خدا ہم بھی انھیں کو
خیبر کی فتح کا جو ثمر لے کے چلے ہیں
وہ مدح صحابہ کا علم لے کے چلے ہیں
سینے میں مدینے کا جتن لے کے چلے ہی
کونین کے پردے پہ فقط مدح صحابہ
ہم خورشید جہاں تاب کی ضو لے کے چلے ہیں
آنکھوں میں بسائے ہوئے ناموس صحابہ
اس دور میں نذرانہ جاں لے کے چلے ہیں
کچھ ہم پہ ہے اللہ کی نظرِ خاص حزیں بھی
کچھ اپنی نواؤں میں اثر لے کے چلے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کاوش ۔۔۔۔ افتخار احمد بستوی حزیں
2/11/2021
Comments
Post a Comment