جادو کی حقیقت

 حضرت زید بن ارقم ؓ سے روایت:ایک یہودی نے نبی اکرم ﷺ پر جادو کیا، جب آپ ﷺ نے اس کے اثرات کو اپنے اوپر محسوس کیا تو جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے اور سورۃ الفلق اور سورۃ الناس جن کو ’’معوّذتین‘‘ کہتے ہیں، وحی کی گئیں پھر جبرائیل علیہ السلام نے آپ ﷺ سے کہا: ’’یقیناً ایک یہودی نے آپ ﷺ پر جادو کیا ہے اور اس کا طلسم فلاں کنویں میں رکھا ہوا ہے۔‘‘نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی ؓ کو بھیجا کہ وہاں سے طلسم لے آئیں۔ جب وہ اسے لے کر واپس آئے تو آپ ﷺ نے حضرت علی ؓ سے فرمایا کہ اس کی گرہوں کو ایک ایک کرکے کھولیں اور ہر گرہ کے ساتھ ان سورتوں میں سے ایک ایک آیت پڑھیں۔ جب انہوں نے ایسا کیا تو آپ ﷺ یوں اُٹھ کھڑے ہوئے، گویا وہ پہلے بندھے ہوئے تھے۔ (صحیح بخاری )سرکار دو عالمﷺ نے ایک حدیث میں فرمایا ہے :’’یقیناً کچھ بیان جادو ہوتے ہیں ۔‘‘ایک جادو بیان مقرر لوگوں کوغلط کو صحیح اورصحیح کو غلط سمجھنے پر قائل کرسکتا ہے۔ اس لیے نبی اکرم ﷺ نے اس کے کچھ پہلوؤں کو جادو سے تعبیر کیا۔ روزہ رکھنے کے لیے طلوع آفتاب سے پہلے جو کھانا کھایا جاتا ہے، اسے’’سحور‘‘(جس کا مادہ سحر ہے) کہتے ہیں، وہ اس لیے کہ اس کھانے کا وقت رات کے آخری حصے یعنی اندھیرے میں ہوتا ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا:’’جو شخص نجومی کے پاس جا کر اس سے کوئی بات پوچھے، تو چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہ ہو گی‘‘۔ (صحیح مسلم)صحیح مسلم ہی کی ایک حدیث میں رسول اللّہﷺ نے فرمایا کہ شیطان اپنے ایجنٹوں کے بڑے بڑے کارناموں پر خوش نہیں ہوتا لیکن اس بات پر بہت خوش ہوتا ہے کہ اس کا کوئی پیروکار میاں بیوی کے درمیان تفریق کروا دے۔حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے:رسول اللّہ ﷺ نے فرمایا : جو کسی کاہن کے پاس آیا اور اس کی بات کی تصدیق کی تو اس نے اس چیز کا انکار کیا جو محمدﷺ پر نازل ہوئی‘‘۔(سنن ابو داؤد)اسلام میں جادو سیکھنا اور جادو کرنا کُفر:اسلام میں جادو سیکھنا اور جادو کرنا دونوں کو کفر قرار دیا گیا ہے، اس لیے جو کوئی بھی جادو کرتا ہو، اس کے لیے شریعت میں بہت سخت سزا رکھی گئی ہے۔ اگر کوئی جادو پرعمل کرتا ہوا پکڑا جائے اوروہ توبہ نہ کرے اور جادو کرنا نہ چھوڑے تواس کی سزا موت ہے۔ اس قانون کی بنیاد اللّہ کے رسولﷺ کی یہ حدیث ہے جس کے راوی حضرت جندب ابن کعب ؓہیں۔نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:’’جادوگر کے لیے مقرر کردہ سزا یہ ہے کہ اسے تلوار سے قتل کردیا جائے۔‘‘(اس قانون پرخلفائے راشدینؓ نے سختی سے عمل کیا)

Comments