عملیات وظائف

 دیگر  علاج ومعالجہ کی طرح عملیات اور تعویذات بھی علاج کی ایک قسم ہے،  تعویذات اور عملیات کے ذریعے علاج کرنا اور اس پر معقول معاوضہ لینا چند شرائط کے ساتھ جائز ہے:

(۱)  ان کا معنی  ومفہوم معلوم ہو،  (۲) ان میں  کوئی شرکیہ کلمہ نہ ہو، (۳)  ان کے مؤثر بالذات ہونے   کا اعتقاد نہ ہو ،  (۴)  عملیات کرنے ولا علاج سے واقف اور  ماہر ہو، فریب نہ کرتا ہو۔ (۴) کسی بھی غیر شرعی امر کا ارتکاب نہ کرنا پڑے، مثلاً: اجنبیہ عورتوں سے اختلاط و بے پردگی وغیرہ۔

         لہذا  ایسے تعویذ اور عملیات جو آیاتِ قرآنیہ ، ادعیہ ماثورہ یا کلمات صحیحہ پر مشتمل ہوں  ان کو لکھنا،  استعمال کرنا اور ان سے علاج کرنا شرعاً درست ہے،  اور اس پر معقول معاوضہ  لینا بھی جائز ہے، اور جن تعویذوں میں کلماتِ  شرکیہ یا  کلماتِ مجہولہ یا نامعلوم قسم کے منتر  لکھے جائیں یا ا نہیں مؤثرِ حقیقی  سمجھا جائے تو ان کا استعمال  اور اس پر اجرت لینا  شرعاً جائز نہیں ہے، خواہ اپنے آپ کو دیوبندی کہلانے والا کوئی شخص ایسا علاج کرے۔  آج کل اس سلسلے میں شرعی احکام اور شرائط کی رعایت نہیں رکھی جاتی نیز دھوکا دہی بھی عام ہے، اس لیے مکمل تحقیق اور تصدیق کے بغیر کسی کے پاس نہیں جانا چاہیے۔ 

اور جو علماءِ کرام اس سے منع کرتے ہیں تو ان کے پیشِ نظر  بھی وہ صورتیں ہوتی ہیں جن میں شرائط نہ پائی جاتی ہوں، یا جن صورتوں میں عوام کے اعتقاد کے فساد کا اندیشہ ہو، لہٰذا سدًّا للذرائع عاملین کی طرف رجوع سے منع کرتے ہیں؛ کیوں کہ عوام دنیاوی اغراض کے لیے بسا اوقات ناجائز ذرائع استعمال کرتے ہوئے غیر مسلم عاملین تک سے رجوع کرتے ہیں۔

یہ امر بھی ملحوظ رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے مقاصد اور دینِ اسلام کے مزاج کے پیشِ نظر  علماءِ دین کے لیےعملیات کو مشغلہ بنانا اور اس میں انہماک (گو شرائط کی رعایت رکھتے ہوئے ہو) کچھ پسندیدہ نہیں ہے۔  

صحيح مسلم میں ہے:

’’ عن عوف بن مالك الأشجعي، قال: كنا نرقي في الجاهلية، فقلنا: يا رسول الله كيف ترى في ذلك؟ فقال: «اعرضوا علي رقاكم، لا بأس بالرقى ما لم يكن فيه شرك»‘‘.

(4/ 1727، رقم الحدیث: 2200، باب لا باس بالرقی مالم یکن فیہ شرک، ط: دار احیاء التراث العربی)

 

سنن أبي داؤد  میں ہے:

’’ عن أبي سعید الخدري أن رهطاً من أصحاب النبي صلی الله علیه وسلم انطلقوا في سفرة سافروها، فنزلوا بحي من أحیاء العرب، فقال بعضهم: إن سیدنا لدغ، فهل عند أحد منکم شيء ینفع صاحبنا؟ فقال رجل من القوم: نعم، والله إني لأرقي، ولکن استضفناکم، فأبیتم أن تضیفونا، ما أنا براق حتی تجعلولي جعلاً، فجعلوا له قطیعاً من الشاء،

Comments