آیات قرآنی کی صحیح تعداد
مولانا منظور احمد آفاقی
قرآن کریم کی آیات کی صحیح تعداد 62
عوام میں مشہور ہے کہ قرآن حکیم کی آیتوں کی تعداد چھے ہزار، چھے سو، چھیاسٹھ ہے۔ چونکہ اس عدد (۶۶۶۶) کو یاد رکھنا انتہائی آسان ہے لہٰذا کسی نے تحقیق کی زحمت ہی نہیں اُٹھائی۔ بیشتر اہل قلم اپنی تحریروں میں چھے کے ہندسے کو چار بار لکھ کر اپنی ذمہ داری سے سبک دوش ہوجاتے ہیں، لیکن محققین صحیح تعداد کا کھوج لگاتے اور درست تعداد رقم کرتے ہیں۔
علامہ قرطبی نے اپنی تفسیر (۱) میں، علامہ سامی ابن محمد السلامہ نے تفسیر ابن کثیر کے مقدمہ (۲) میں، علامہ ابن جوزی نے اپنی کتاب ’’فنون الافنان‘‘ (۳) میں، علامہ سیوطی نے ’’الاتقان‘‘ (۴) میں اور علامہ عبدالعظیم زرقانی نے ’’مناہل العرفان‘‘ (۵) میں، قرآنی آیات کی تعداد اور اس میں واقع ہونے والے اختلاف کا ذکر کیا ہے۔ ان بزرگوں نے لکھا ہے کہ چھے ہزار دوسو کے عدد پر سب علماء وقراء کااتفاق ہے۔ اختلاف صرف دو سو کے بعد کے عدد میں ہے (۶)۔ اس اختلافات کی وجہ یہ ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم جب تلاوت فرماتے تو آیات کے آخر پر ٹھہرتے تھے اور کبھی کسی آیت کے درمیان بھی سانس لینے کے لیے ٹھہر جاتے تھے۔ سننے والے (صحابہ کرام) گمان کرتے تھے کہ یہاں پر یہ آیت ختم ہوگئی ہے۔ بعض اوقات مفہوم اور معنی کی مناسبت سے ایک آیت کو دوسری آیت سے ملا کر پڑھ لیتے تھے۔ جس پر سامعین یہ سمجھتے کہ شاید یہ ایک ہی آیت ہے۔ ا ن وجوہات کی بنا پر آیات کی تعداد اور شمار میں اختلاف واقع ہوا تھا، جس کی تفصیل حسب ذیل ہے۔
آیات کی گنتی پانچ شہروں، مکہ، مدینہ، کوفہ، مصر اور شام کے قراء حضرات کی طرف منسوب ہے۔
(۱) عدد مکی۔ یہ گنتی دو تابعین، مجاہدبن جبر اور ان کے شاگرد عبداﷲ بن کثیر کی طرف منسوب ہے۔ یہ حضرات اپنے وقت میں قراء ت او رتفسیر دونوں میں اہل مکہ کے امام تھے۔
(۲) عدد مدنی۔ یہ تعداد ابوجعفریزیدبن قعقاع اور ان کے دامادشیبہ بن نصاح کی طرف منسوب ہے۔ یہ دونوں اپنے زمانے میں اہل مدینہ کے امام تھے۔
(۳) عدد کوفی۔ یہ شمار حضرت علی کرم اﷲ تعالیٰ وجہہ کے شاگرد ابو عبدالرحمان سلمی کی طرف منسوب ہے۔
(۴) عدد بصری۔ یہ گنتی عاصم بن میمون جحدری تا بعی کی طرف منسوب ہے یہ بزرگ ان چھے ماہرین قرآن میں شامل تھے جنہیں حجاج بن یوسف نے قرآن کے حروف کی تعداد معلوم کرنے کے لیے مقرر کیا تھا ۔
(۵) عدد شامی۔ یہ عدد عبداﷲ بن عامر کی طرف منسوب ہے۔ موصوف حضرت ابودرداء رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے شاگرد اوراپنے دور میں اہل شام کے امام تھے۔
(۱) حضرت علی رضی اﷲ عنہ کے نزدیک قرآنی آیات کی تعداد، (ایک روایت کے مطابق) ۔۶۲۲۹
(۲) حضرت عبداﷲ بن مسعود اور نافع رضی اﷲ عنہما کے نزدیک ۔۶۲۱۷
(۳) حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ کے نزدیک (ایک روایت کے مطابق)۔ ۶۲۱۵
(۴) عطاء خراسانی کے نزدیک ۔۶۲۱۶ (۵) عطاء بن یسار کے نزدیک۔ ۶۲۰۶
(۶) عدد مکی (مجاہد او رعبداﷲ بن کثیر کے نزدیک)۔ ۶۲۲۰ (۷) عدد مدنی (شیبہ کے نزدیک)۔۶۲۱۴
(۸) عدد مدنی (ابوجعفر کے نزدیک)۔ ۶۲۱۰ (۹)عدد کوفی (مشہور قاری حمزہ زیات کے نزدیک) ۶۲۳۶
(۱۰) عدد بصری (جحدری کی ایک روایت کے مطابق) ۶۲۰۵
(۱۱) عدد بصری (حجدری کی ایک دوسری روایت کے مطابق ۶۲۰۴
(۱۲) عدد بصری (قتادہ کی روایت کے مطابق) ۶۲۱۹
(۱۳) عدد شامی (یحییٰ بن حارث ذماری کے نزدیک) ۶۲۲۶
(۱۴) شام کے شہر حمص والوں کے نزدیک ۔۶۲۳۲
ممکن ہے کہ کچھ قراء کے اقوال درج نہ ہوئے ہوں بہر کیف مجھے جو کچھ مل سکا ہے وہ میں نے لکھ دیا ہے آیات کے اس اختلاف
Comments
Post a Comment