نماز میں سورہ فاتحہ مکرر پڑھ دے

   اگر کسی شخص سے بھول کر نماز میں کوئی واجب چھوٹ جائے، یانماز کے واجبات اور فرائض میں سے کسی واجب یا فرض کی ادائیگی میں تاخیر ہوجائے،  یاکسی فرض کو پہلے ادا کردے (یعنی ارکان کی ترتیب بدل دے، جو کہ واجب ہے) یا تکرار کے ساتھ اداکرے یاکسی واجب کو تبدیل کردے  ان صورتوں میں سجدہ سہو واجب ہوجاتاہے۔

اور فرائض کی پہلی دو رکعات اور سنن و نوافل کی ہر رکعت میں سورہ فاتحہ ایک مرتبہ پڑھنا واجب ہے، اگر کوئی سہواً سورہ فاتحہ ایک سے زائد مرتبہ تسلسل سے  پڑھ لے تو تکرارِ واجب کی وجہ سے سجدہ سہو واجب ہوجائے گا، البتہ اگر  پہلی دو رکعات میں   سورہ فاتحہ کے بعد بقدرِ واجب قراءت کرنے کے بعد سورہ فاتحہ کو دوبارہ  پڑھ لیا تو سجدہ سہو واجب نہیں ہوگا۔

 فتاوی ہندیہ میں ہے:

ولا يجب السجود إلا بترك واجب أو تأخيره أو تأخير ركن أو تقديمه أو تكراره أو تغيير واجب بأن يجهر فيما يخافت وفي الحقيقة وجوبه بشيء واحد وهو ترك الواجب، كذا في الكافي ... ولو كررها في الأوليين يجب عليه سجود السهو بخلاف ما لو أعادها بعد السورة أو كررها في الأخريين، كذا في التبيين.

(الْبَابُ الثَّانِي عَشَرَ فِي سُجُودِ السَّهْوِ، ١/ ١٢٦، رشیدیہ)

فقط واللہ اعلم1036-970/sd=10/1438

سورہ فاتحہ کی کسی ایک یا دو آیت کے تکرار سے سجدہ سہو واجب نہیں ہوگا، اس کے بغیر نماز صحیح ہوجائے گی؛ البتہ اگر سورہ فاتحہ کے اکثر حصے کا تکرار کیا، تو سجدہ سہو واجب ہوجائے گا۔ فلو قرأہا فی رکعة من الأولیین مرتین وجب سجود السہو لتأخیر الواجب وہو السورة کما فی الذخیرة وغیرہا، وکذا لو قرأ أکثرہا ثم أعادہا کما فی الظہیریة ۔( الدر المختار مع رد المحتار : ۴۶۰/۱، واجبات الصلاة، ط: دار الفکر، بیروت )


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

Comments