ایک چشم کشا واقعہ

 مولانا انوار عالم چمپارن اجمیری حال مقیم بیکانیر جنہوں نے کچھ مہینوں پہلے بریلویت سے توبہ کی اور دیوبندی مکتب فکر کو اپنایا۔ جب حاجی شبیر بیکانیری نے ان سے بریلویت چھوڑنے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا کہ میں اجمیر کی ایک مسجد میں چھتیس سال سے امامت کے فرائض انجام دے رہا تھا۔ اور حضرت خواجہ صاحب سے بے انتہا محبت و عقیدت ہے۔ میں تقریباً روزانہ درگاہ شریف پر حاضری دیتا تھا۔ ایک رات میں نے خواب میں دیکھا کہ میں درگاہ شریف پر حاضری دینے جاتا ہوں مگر دیکھتا ہوں کہ حضرت خواجہ صاحب کی تربة غائب ہے۔ میں حیران رہ گیا۔اور گبھراہٹ میں میری آنکہ کھل گئی۔ کئ دن میں نے یہ خواب دیکھا۔ایک مرتبہ جب یہ خواب دیکھا تو میں نے دیکھا کہ عین قبر مبارک کی جگہ پر ایک قوی الجثہ روشن چہرہ بڑی پیشانی والے صاحب تخت پر بیٹھے ہوۓ ہیں ۔اور وہ مطالعہ میں مشغول ہیں۔ میں نے دیکھا تو وہ بخاری شریف تھی۔ اور ایک کونے پر کلام پاک رکھا ہوا تھا۔میں ان کے پاس بیٹھ گیا۔ وہ میری طرف متوجہ ہوے۔ میں نے کہا اے بزرگ یہاں پر تو حضرت خواجہ صاحب کا مزار ہوا کرتا تھا۔ وہ مسکراۓ اور کہا لو بھائی جب میں زندہ ہوں تو میری قبر کیوں ہوگی؟ میں نے ان کے پیر پکڑ لۓ انہوں نے کہا کہ تم روزانہ میرے یہاں آتے ہو تم دیکھتے ہو لوگ میرے مزار کو بت کی طرح پوجتے ہیں تم انہیں روکتے کیوں نہیں۔؟ میں نے کہا کہ ہمارے علماء نے بطور تعظیم اس کی اجازت دی ہے مگر عوام حد کو تجاوز کر گئی ہے۔اب معاملہ ہمارے قابو میں نہیں ہے۔حضرت نے فرمایا کیا تم نے ان دونوں ( کتاب و سنت) میں کہیں اس کی اجازت دیکھی ہے؟ہر وقت کتاب و سنت کو سامنے رکھو اور جو جماعت ان دونوں کے سب سے زیادہ قریب ہو اس کے ساتھ رہو۔ میں نے کہا حضرت ان میں تدبر کی صلاحیت مجھ میں نہیں ہے۔اور نہ جانے کتنے مکاتب فکر ہندوستان میں پیدا ہوچکے ہیں۔ کس کو حق پر جانیں۔اور بہت سے تو ایسے ہیں کہ شروع میں حق پر ہوتے ہیں بعد میں ان کے عقائد بدل جاتے ہیں۔ حضرت نے فرمایا تو پھر میرے نائبین کی اتباع کرو۔ دیکھو وہ کس کی تصدیق کرتے ہیں ان کے ساتھ ہو جاؤ اور وہ جن کی تنقید کرتے ہیں اور ان سے پہلو تہی کرتے ہیں ان سے الگ ہو جاؤ۔ میں نے کہا آپ کے نائبین آپ کی اولاد ہیں؟ فرمایا وہ بھی میری طرح صرف ان دو(کتاب و سنت) کی اتباع کرنے والے ہیں۔ میں نے کہا حضرت اب یہ بھی بتلا دیجیے کہ وہ کون لوگ ہیں۔ حضرت نے شمال کی طرف اشارہ کیا۔ میں نے کھڑے ہوکر دیکھا تو دارالعلوم دیوبند کی دارالحدیث نظر آ رہی تھی ۔ بس میں نے اسی روز ٹرسٹی حضرات کے سامنے پوری بات رکھی اور دوسرے روز مجھے اجمیر شریف چھوڑنے کا الٹی میٹم دے دیا گیا ۔👆🏻👆🏻



 *علماء دیوبند زندہ باد*💪🏻

Comments