زکاۃ کا بیان

 الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا أَنفِقوا مِن طَيِّبـٰتِ ما كَسَبتُم وَمِمّا أَخرَجنا لَكُم مِنَ الأَرضِ وَلا تَيَمَّمُوا الخَبيثَ مِنهُ تُنفِقونَ وَلَستُم بِـٔاخِذيهِ إِلّا أَن تُغمِضوا فيهِ وَاعلَموا أَنَّ اللَّهَ غَنِىٌّ حَميدٌ ﴿٢٦٧﴾... سورة البقرة

"اے ایمان والو! اپنی پاکیزه کمائی میں سے اور زمین میں سے تمہارے لئے ہماری نکالی ہوئی چیزوں میں سے خرچ کرو، ان میں سے بری چیزوں کے خرچ کرنے کا قصد نہ کرنا، جسے تم خود لینے والے نہیں ہو، ہاں اگر آنکھیں بند کر لو تو، اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ بے پرواه اور خوبیوں والاہے"[1]

قرآن مجید میں زکاۃ کو"نفقہ"(خرچ کرنا) بھی کہا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿وَالَّذينَ يَكنِزونَ الذَّهَبَ وَالفِضَّةَ وَلا يُنفِقونَها فى سَبيلِ اللَّهِ... ﴿٣٤﴾... سورة التوبة

"اور جو لوگ سونے،چاندی کا خزانہ رکھتے ہیں اور اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے۔[2]"یعنی وہ زکاۃ نہیں دیتے۔

احادیث صحیحہ مشہورہ میں غلہ اور پھلوں کی زکاۃ نکالنے کا حکم اور اس کی مقدار وغیرہ کا بیان موجود ہے،نیز مسلمانوں کااجماع ہے کہ گندم،جو،کھجور،منقیٰ، میں زکاۃ فرض ہے۔علاوہ ازیں چاول،چنا وغیرہ غلے میں بھی زکاۃ ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد ہے:

"لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسَاقٍ مِنْ تَمْرٍ وَلاَ حَبٍّ صَدَقَةٌ "

"کھجور اور اناج کے پانچ وسق سے کم میں زکاۃ نہیں۔"[3]

نیز فرمایا:

"فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ وَالعُيُونُ أَوْ كَانَ عَثَرِيًّا العُشْرُ"

"جس کھیتی کو بارش اور چشموں کا پانی ملے یاجونمی والی زمین ہو،اس میں "عشر" ہے۔"[4]

(1)۔کھجور،منقیٰ وغیرہ ان تمام پھلوں میں زکاۃ فرض ہے جن کا وزن کیاجاتا ہو اور انھیں ذخیرہ کیا جاسکتاہو۔علاوہ ازیں وہ نصاب زکاۃ کی مقدار تک پہنچ جائیں۔سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سےمروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:

"لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ "

" پانچ وسق سے کم میں زکاۃ نہیں۔"[5]

واضح رہے ایک وسق ساٹھ نبوی کاہوتا ہے اور ایک نبوی صاع میں درمیانے آدمی کے چار لپ(دونوں ہاتھوں کے بھرنے کے بقدر) اناج ہوتا ہے(جس کا تحقیقی وزن دو کیلو اور ایک سوگرام ہے۔)

(2)۔اناج اور پھلوں میں زکاۃ کے وجوب کی دو شرطیں ہیں:

1۔نصاب زکاۃ کی مقدار،یعنی پانچ وسق(630 کلو گرام) یا اس سے زیادہ اناج ہو۔

2۔وجواب زکاۃ کے وقت اس کی ملکیت میں ہو،وجوب زکاۃ کا وقت وہ ہے جب پھل میں پختگی آجائے یاکھیتی میں دانہ سخت ہوجائے۔اگرمذکورہ وقت کے بعد وہ مالک ہواتو اس میں زکاۃ فرض نہیں،مثلاً:اس نے اناج خریدا ہویا کٹائی کی اجرت میں حاصل کیا ہویامختلف جگہوں سے جمع کیا یاچنا ہو۔

(3)۔اناج اور پھلوں میں سے نکالی جانے والی زکاۃ کی مقدار مختلف ہے جس کا دارومدار کھیتی کو پانی دینے کے ذرائع کی نوعیت پر ہے۔تفصیل درج ذیل ہے:

اگر کھیت کو پانی دینے میں مشقت نہ ہو اور اسے سیلاب کا پانی یاسطح زمین پر بہنے والا بارش وغیرہ کا پانی ملتا ہویا پودے اپنی جڑوں 

Comments